Showing posts with label زاہد خان. Show all posts
Showing posts with label زاہد خان. Show all posts

Monday, 10 April 2023

خاموشیاں پہن کہ میں جب بے زباں رہا

 خاموشیاں پہن کہ میں جب بے زباں رہا

پھر اندروں سے شور سا اکثر رواں رہا

جِس کو تلاش کرتے ہوئے زندگی کٹی

وہ بے پناہ شخص ہی میرا جہاں رہا

کیسے ٹھہرتا مجھ میں کوئی بے گھری لیے

میں ایک خستہ حال سا اجڑا مکاں رہا

Sunday, 9 April 2023

تم وسعت بے انت جہاں سر نہاں ہو

 عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


 تم وسعتِ بے انت جہاں سرِ نہاں ہو

تم کوئی حقیقت بھی ہو یا ویسے گماں ہو

میں ڈار سے بچھڑے ہوئے پنچھی کی طرح ہوں

تم اس کے لیے چلتی ہوا، پھیلا جہاں ہو

میں شام کے منظر میں ہوں تحلیل شدہ اور

تم دور کسی گاؤں کی مغرب کی اذاں ہو

Thursday, 6 April 2023

تیرے آنے سے ہی گلرنگ ہوئی ہے یہ زمیں

 تیرے آنے سے ہی گُلرنگ ہوئی ہے یہ زمیں

ایسا لگتا ہے کہ میں ہوں ترے ہونے سے یہیں

تِتلیاں رنگ چُراتی ہیں بتاتی ہیں مجھے

تیرے ہونے کا گُماں اور ترے ہونے کا یقیں

میں جنہیں چھوڑ کے آیا تھا تمہاری خاطر

جانے کس حال میں رہتے ہیں اسی گھر کے مکیں

Wednesday, 2 February 2022

جب لیبر ڈے منایا جاتا ہے

 Labours'-day


ہمیں اپنی تلاش میں

بھیجنے سے پہلے ہماری جیبیں

کاٹ دی جاتی ہیں

ہمارے دل کسی لوہار خانے میں بھیج دیے جاتے ہیں

جسے کسی غیر معمولی کوٹنگ میں چھپا دیا جاتا ہے

Friday, 14 January 2022

الذی خلق الموت و الحیوٰة

 الذی خلق الموت و الحیوٰة


کون بے خیالی میں انگلیوں کے پوروں پر

گِن رہا ہے دن اپنے

کون ہے جو خوابوں کے

ان گِنت شبیہوں کو

زندہ کرتا جاتا ہے

Saturday, 8 January 2022

وما ارسلنك الا رحمۃ اللعالمین

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وما ارسلنك الا رحمۃ اللعالمین


بہت سے سانحے گزرے تو پھر جا کر

ہوا تخلیق ہو پائی، زمیں چلنے لگی

اور ساز فطرت نے خدا کی حمد گائی

پرندوں نے خود اپنی مدبھری آواز میں

Thursday, 6 January 2022

گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دکھ سمجھ

 گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دُکھ سمجھ

جاں سے گزرتے اپنے پرائے کا دکھ سمجھ

فکر معاش بھی ہے ضروری مگر اے دوست

کمرے میں لٹکے پنکھے سے لاشے کا دکھ سمجھ

دھتکارنا ہے؟ خیر ہے، دھتکار لے مجھے

لیکن تُو میرے ہاتھ میں کاسے کا دکھ سمجھ

Thursday, 29 July 2021

خوشی سے ماورا ہماری کوکھ میں پلتی اداسی

اداسی


خوشی سے ماورا

ہماری کوکھ میں پلتی اداسی

ایک مکمل وجود رکھتی ہے

انتظار کو ہم اداسی سے مشروط نہیں کر سکتے

کیونکہ اس سمے کسی کے آنے کا عنصر

خوشی کا سبب ہے

Friday, 9 July 2021

میں نے یہ داؤ ویسے چلایا نہیں کبھی

 میں نے یہ داؤ ویسے چلایا نہیں کبھی

اس کو فلک سے کھینچ کے لایا نہیں کبھی

میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، ابھی فیصلہ کرو

یہ راز تم نے مجھ کو بتایا نہیں کبھی

مجھ کو نہیں ہے اپنی خبر مانتا ہوں میں

مجھ کو کسی نے مجھ سے ملایا نہیں کبھی

Sunday, 4 July 2021

نکلنا پڑتا ہے خود کی نہیں نہیں سے مجھے

 نکلنا پڑتا ہے خود کی نہیں نہیں سے مجھے

کوئی پُکارنے لگتا ہے جب یقیں سے مجھے

ادھورا خواب ہوں تعبیر ڈھونڈنی ہے مجھے

اُڑا گیا ہے کوئی چشمِ خشمگیں سے مجھے

خبر نہیں کہ میں پھر اس کے کام آ بھی سکا

کوئی خرید کے لایا تھا مہ جبیں سے مجھے

Friday, 2 July 2021

نئے رتوں کے سفر کی راہیں بنانے والا

 نئے رتوں کے سفر کی راہیں بنانے والا کوئی نہیں ہے


ہمارے گھر کے بالائی حصے کے

کمرے میں ہاں

شمالی جانب جو کھڑکی ہے نا

اسی سے اکثر ہوائیں اپنا

حصار باندھے، خمار باندھے

گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دکھ سمجھ

 گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دُکھ سمجھ

جاں سے گزرتے اپنے پرائے کا دکھ سمجھ

فکرِ معاش بھی ہے ضروری مگر اے دوست

کمرے میں لٹکے پنکھے سے لاشے کا دکھ سمجھ

دُھتکارنا ہے خیر ہے دُھتکار لے مجھے

لیکن تو میرے ہاتھ میں کاسے کا دکھ سمجھ

Thursday, 1 July 2021

جب لیبر ڈے منایا جاتا ہے اور ہمارے بچے بھوکے

 Labour's day


ہمیں اپنی تلاش میں

بھیجنے سے پہلے ہماری جیبیں

کاٹ دی جاتی ہیں

ہمارے دل کسی لوہار خانے میں بھیج دئیے جاتے ہیں

جسے کسی غیر معمولی کوٹنگ میں چھپا دیا جاتا ہے

خاموشی اپنا وجود سرسراتی ہوا میں تلاش کر رہی ہے

 رازوں سے پردہ اٹھانے کی جستجو


خاموشی اپنا وجود سرسراتی ہوا میں

تلاش کر رہی ہے

محبت نے اپنا آپ کسی تابوت میں

بند کر لیا ہے

اس کی زندگی کا واحد سہارا تابوت کی درز

کسی کے عشق میں ہر بات آزمائی گئی

 کسی کے عشق میں ہر بات آزمائی گئی

بس اس حصول مسرت میں مات کھائی گئی

گئے دنوں میں ہُوا تھا جہاں پہ قتل میرا

ہاں اس کے بعد وہاں چیخ پھر سنائی گئی

خدا گواہ کہ بھائی یونہی جھگڑتے رہے

ہمارے صحن میں دیوار بھی اُٹھائی گئی

Wednesday, 30 June 2021

کسی کو زخم تمنا دکھا نہیں سکتا

 کسی کو زخمِ تمنا دِکھا نہیں سکتا

میں دشت میں ہوں مگر خاک اُڑا نہیں سکتا

تمہیں بھی یار! محبت سے کام لینا ہے

میں بات بات پہ تم کو منا نہیں سکتا

کہ جس میں رنج ہیں آلام اور مصائب ہیں

میں بار بار وہ قصہ سنا نہیں سکتا