خاموشیاں پہن کہ میں جب بے زباں رہا
پھر اندروں سے شور سا اکثر رواں رہا
جِس کو تلاش کرتے ہوئے زندگی کٹی
وہ بے پناہ شخص ہی میرا جہاں رہا
کیسے ٹھہرتا مجھ میں کوئی بے گھری لیے
میں ایک خستہ حال سا اجڑا مکاں رہا
خاموشیاں پہن کہ میں جب بے زباں رہا
پھر اندروں سے شور سا اکثر رواں رہا
جِس کو تلاش کرتے ہوئے زندگی کٹی
وہ بے پناہ شخص ہی میرا جہاں رہا
کیسے ٹھہرتا مجھ میں کوئی بے گھری لیے
میں ایک خستہ حال سا اجڑا مکاں رہا
عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت
تم وسعتِ بے انت جہاں سرِ نہاں ہو
تم کوئی حقیقت بھی ہو یا ویسے گماں ہو
میں ڈار سے بچھڑے ہوئے پنچھی کی طرح ہوں
تم اس کے لیے چلتی ہوا، پھیلا جہاں ہو
میں شام کے منظر میں ہوں تحلیل شدہ اور
تم دور کسی گاؤں کی مغرب کی اذاں ہو
تیرے آنے سے ہی گُلرنگ ہوئی ہے یہ زمیں
ایسا لگتا ہے کہ میں ہوں ترے ہونے سے یہیں
تِتلیاں رنگ چُراتی ہیں بتاتی ہیں مجھے
تیرے ہونے کا گُماں اور ترے ہونے کا یقیں
میں جنہیں چھوڑ کے آیا تھا تمہاری خاطر
جانے کس حال میں رہتے ہیں اسی گھر کے مکیں
Labours'-day
ہمیں اپنی تلاش میں
بھیجنے سے پہلے ہماری جیبیں
کاٹ دی جاتی ہیں
ہمارے دل کسی لوہار خانے میں بھیج دیے جاتے ہیں
جسے کسی غیر معمولی کوٹنگ میں چھپا دیا جاتا ہے
الذی خلق الموت و الحیوٰة
کون بے خیالی میں انگلیوں کے پوروں پر
گِن رہا ہے دن اپنے
کون ہے جو خوابوں کے
ان گِنت شبیہوں کو
زندہ کرتا جاتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وما ارسلنك الا رحمۃ اللعالمین
بہت سے سانحے گزرے تو پھر جا کر
ہوا تخلیق ہو پائی، زمیں چلنے لگی
اور ساز فطرت نے خدا کی حمد گائی
پرندوں نے خود اپنی مدبھری آواز میں
گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دُکھ سمجھ
جاں سے گزرتے اپنے پرائے کا دکھ سمجھ
فکر معاش بھی ہے ضروری مگر اے دوست
کمرے میں لٹکے پنکھے سے لاشے کا دکھ سمجھ
دھتکارنا ہے؟ خیر ہے، دھتکار لے مجھے
لیکن تُو میرے ہاتھ میں کاسے کا دکھ سمجھ
اداسی
خوشی سے ماورا
ہماری کوکھ میں پلتی اداسی
ایک مکمل وجود رکھتی ہے
انتظار کو ہم اداسی سے مشروط نہیں کر سکتے
کیونکہ اس سمے کسی کے آنے کا عنصر
خوشی کا سبب ہے
میں نے یہ داؤ ویسے چلایا نہیں کبھی
اس کو فلک سے کھینچ کے لایا نہیں کبھی
میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، ابھی فیصلہ کرو
یہ راز تم نے مجھ کو بتایا نہیں کبھی
مجھ کو نہیں ہے اپنی خبر مانتا ہوں میں
مجھ کو کسی نے مجھ سے ملایا نہیں کبھی
نکلنا پڑتا ہے خود کی نہیں نہیں سے مجھے
کوئی پُکارنے لگتا ہے جب یقیں سے مجھے
ادھورا خواب ہوں تعبیر ڈھونڈنی ہے مجھے
اُڑا گیا ہے کوئی چشمِ خشمگیں سے مجھے
خبر نہیں کہ میں پھر اس کے کام آ بھی سکا
کوئی خرید کے لایا تھا مہ جبیں سے مجھے
نئے رتوں کے سفر کی راہیں بنانے والا کوئی نہیں ہے
ہمارے گھر کے بالائی حصے کے
کمرے میں ہاں
شمالی جانب جو کھڑکی ہے نا
اسی سے اکثر ہوائیں اپنا
حصار باندھے، خمار باندھے
گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دُکھ سمجھ
جاں سے گزرتے اپنے پرائے کا دکھ سمجھ
فکرِ معاش بھی ہے ضروری مگر اے دوست
کمرے میں لٹکے پنکھے سے لاشے کا دکھ سمجھ
دُھتکارنا ہے خیر ہے دُھتکار لے مجھے
لیکن تو میرے ہاتھ میں کاسے کا دکھ سمجھ
Labour's day
ہمیں اپنی تلاش میں
بھیجنے سے پہلے ہماری جیبیں
کاٹ دی جاتی ہیں
ہمارے دل کسی لوہار خانے میں بھیج دئیے جاتے ہیں
جسے کسی غیر معمولی کوٹنگ میں چھپا دیا جاتا ہے
رازوں سے پردہ اٹھانے کی جستجو
خاموشی اپنا وجود سرسراتی ہوا میں
تلاش کر رہی ہے
محبت نے اپنا آپ کسی تابوت میں
بند کر لیا ہے
اس کی زندگی کا واحد سہارا تابوت کی درز
کسی کے عشق میں ہر بات آزمائی گئی
بس اس حصول مسرت میں مات کھائی گئی
گئے دنوں میں ہُوا تھا جہاں پہ قتل میرا
ہاں اس کے بعد وہاں چیخ پھر سنائی گئی
خدا گواہ کہ بھائی یونہی جھگڑتے رہے
ہمارے صحن میں دیوار بھی اُٹھائی گئی
کسی کو زخمِ تمنا دِکھا نہیں سکتا
میں دشت میں ہوں مگر خاک اُڑا نہیں سکتا
تمہیں بھی یار! محبت سے کام لینا ہے
میں بات بات پہ تم کو منا نہیں سکتا
کہ جس میں رنج ہیں آلام اور مصائب ہیں
میں بار بار وہ قصہ سنا نہیں سکتا