اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا
اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا
دیکھتی ہوں کہیں درازوں میں
چند کاغذ شکستہ بوسیدہ
اپنی سانسیں بحال کرتے ہوئے
منتظر سے اداس و افسردہ
اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا
اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا
دیکھتی ہوں کہیں درازوں میں
چند کاغذ شکستہ بوسیدہ
اپنی سانسیں بحال کرتے ہوئے
منتظر سے اداس و افسردہ
مہالکشمی کا پل
مہالکشمی پل پر سوکھنے والی
ساری ساڑھیوں کے اندر
روز ایک ہی عورت ہوتی ہے
جو دن میں تھوڑا کھاتی ہے
اور رات کو کم کم سوتی ہے
تمہیں جی کا حال بتاتی ہوں
میں مرنے سے گھبراتی ہوں
اور یہی وجہ ہے سارا دن
دنیا سے دھیان لگاتی ہوں
کبھی اِس کو پاس بلاتی ہوں
کبھی اُس کو پاس بلاتی ہوں
اونہہ
میری ماں کا
سب سے لاڈلا بچہ
میرا چھوٹا بھائی
ماں کے پاؤں دباتا تھا وہ
اک دیوار کو پکڑے پکڑے
بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر
جن کا گھر چھوٹ گیا
گھر نے جنہیں چھوڑ دیا
وہ جنہوں نے کیا انکار
روش پر نہ چلیں
ڈھونڈ لیتے ہیں انھیں فرش کی تہ سے یہ لوگ
بے بسی
ہم بوڑھے لوگ بہت بے بس
کوئی اسی ستر ساٹھ برس
جینے کا تماشہ کرتے ہوئے
سانسوں کو بدن میں بھرتے ہوئے
کوئی ساتھ نہیں کوئی پاس نہیں
عمارت بات کرتی ہے
جلال الدین اکبر کے
وسیع الشان اعلیٰ مقبرے پر
جب میں پہنچی
تو مجھے محسوس ہوتا تھا
عمارت بات کرتی ہے
وہ کیسی عورتیں تھیں
جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلاتی تھیں
جو سِل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیں
سحر سے شام تک مصروف، لیکن مسکراتی تھیں
بھری دوپہر میں سر اپنا جو ڈھک کر ملنے آتی تھیں
جو پنکھے ہاتھ کے جھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیں