Showing posts with label اسنیٰ بدر. Show all posts
Showing posts with label اسنیٰ بدر. Show all posts

Friday, 9 December 2022

اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا

 اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا


اب مجھے کوئی خط نہیں لکھتا

دیکھتی ہوں کہیں درازوں میں

چند کاغذ شکستہ بوسیدہ

اپنی سانسیں بحال کرتے ہوئے

منتظر سے اداس و افسردہ

Wednesday, 13 April 2022

مہالکشمی پل پر سوکھنے والی ساڑھیوں کے اندر

 مہالکشمی کا پل


مہالکشمی پل پر سوکھنے والی

ساری ساڑھیوں کے اندر

روز ایک ہی عورت ہوتی ہے

جو دن میں تھوڑا کھاتی ہے

اور رات کو کم کم سوتی ہے

Tuesday, 12 April 2022

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

 تمہیں جی کا حال بتاتی ہوں

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

اور یہی وجہ ہے سارا دن

دنیا سے دھیان لگاتی ہوں

کبھی اِس کو پاس بلاتی ہوں

کبھی اُس کو پاس بلاتی ہوں

Monday, 11 April 2022

میری ماں کا سب سے لاڈلا بچہ میرا چھوٹا بھائی

 اونہہ


میری ماں کا

سب سے لاڈلا بچہ

میرا چھوٹا بھائی

ماں کے پاؤں دباتا تھا وہ

اک دیوار کو پکڑے پکڑے

Sunday, 10 April 2022

بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر

 بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر 


جن کا گھر چھوٹ گیا

گھر نے جنہیں چھوڑ دیا

وہ جنہوں نے کیا انکار

روش پر نہ چلیں

ڈھونڈ لیتے ہیں انھیں فرش کی تہ سے یہ لوگ

Saturday, 9 April 2022

‎ہم بوڑھے لوگ بہت بے بس

 بے بسی


‎ہم بوڑھے لوگ بہت بے بس

‎کوئی اسی ستر ساٹھ برس

‎جینے کا تماشہ کرتے ہوئے

‎سانسوں کو بدن میں بھرتے ہوئے

‎کوئی ساتھ نہیں کوئی پاس نہیں

Friday, 8 April 2022

مجھے محسوس ہوتا تھا عمارت بات کرتی ہے

 عمارت بات کرتی ہے


جلال الدین اکبر کے

وسیع الشان اعلیٰ مقبرے پر

جب میں پہنچی

تو مجھے محسوس ہوتا تھا

عمارت بات کرتی ہے

Monday, 4 April 2022

وہ کیسی عورتیں تھیں جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر

 وہ کیسی عورتیں تھیں


جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلاتی تھیں

جو سِل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیں

سحر سے شام تک مصروف، لیکن مسکراتی تھیں

بھری دوپہر میں سر اپنا جو ڈھک کر ملنے آتی تھیں

جو پنکھے ہاتھ کے جھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیں