عمارت بات کرتی ہے
جلال الدین اکبر کے
وسیع الشان اعلیٰ مقبرے پر
جب میں پہنچی
تو مجھے محسوس ہوتا تھا
عمارت بات کرتی ہے
کہیں گھوڑوں کی ٹاپیں
اور سپہ سالار، تلواریں
فضا میں حوصلہ مندی کے پرچم
اونچی میناریں
جلال الدین اکبر تخت پر جلوہ نما
جنگوں کے منصوبے
محل میں سیر کرتے
سطوتِ شاہی کی آہٹ سے
لزرتے پیڑ کے پتے
کہیں پر
دعوت شاہی بٹیریں اصلی گھی میوے
معطر سارے حجرے عود عنبر سے
کہ پھر مغموم سا جھونکا
جنازے کے تعاقب میں ہزاروں لوگ
اور تنہا جلال الدین اکبر
بے بس و لاچار کاندھوں پر
اب ان کی قبر میں ایسی مہک ہے
جس طرح اک غار صدیوں سے مقفل ہو
مجھے محسوس ہوتا تھا
کہ اکبر ہی نہیں
تہذیب اور تاریخ کا اک دور بھی مدفون ہے
اس غار میں محصور ہوں میں بھی
کسے معلوم کب کوئی
ہرا یا زعفرانی حکم آ جائے
عمارت بند ہو جائے
روایت سے تعلق کی روایت بند ہو جائے
عمارت بات کرتی ہے
مگر باتوں کا اندازہ نہیں ہوتا
اسنیٰ بدر
No comments:
Post a Comment