Friday, 8 April 2022

عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہے

 عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہے

کون آسمانوں سے آئینے⌗ گراتا ہے

میں نے روپ دھارا ہے اس کی روح کا اور وہ

میرے نقش ہی میرے سامنے گراتا ہے

عمر بھر اٹھائے گا دکھ مِرے بکھرنے کا

آنکھ کی بلندی سے کیوں مجھے گراتا ہے

شعلۂ محبت اور آب اشک اے ناداں

روشنی کو دریا میں کس لیے گراتا ہے

وہ ہوا کا جھونکا بھی میرا سخت دشمن ہے

شاخ سے جو پتے کو زور سے گراتا ہے

جذب کر نہ لے جعفر سوچ لہر کی تجھ کو

تُو کہاں سمندر میں کنکرے گراتا ہے


جعفر شیرازی

No comments:

Post a Comment