کوئی خوشبو سی لہرائے تو کیسے
ہوا چپ ہے، صدا آئے تو کیسے
ہر اک رستہ کھلے بس تیری جانب
کوئی تجھ سے نکل پائے تو کیسے
ہر اک کمرے میں میں اک ہی آئینہ ہے
کوئی اب خود سے شرمائے تو کیسے
کوئی خوشبو سی لہرائے تو کیسے
ہوا چپ ہے، صدا آئے تو کیسے
ہر اک رستہ کھلے بس تیری جانب
کوئی تجھ سے نکل پائے تو کیسے
ہر اک کمرے میں میں اک ہی آئینہ ہے
کوئی اب خود سے شرمائے تو کیسے
جنوں پیشہ تقدیر سے کھیلتا ہے
دِوانہ ہے، تصویر سے کھیلتا ہے
مِرے خواب ہیں اس کی آنکھوں کی زینت
زمانہ ہی تعبیر سے کھیلتا ہے
لٹاتا ہے دل بے طرح سے آنسو
ولی عہد، جاگیر سے کھیلتا ہے
حکایت وصل کی سب کو سنانا بند کر دیں
تو پھر یادیں بھی یوں پنکھا ہلانا بند کر دیں
ذرا چھٹ جائے اس کے خواب گہہ کی یہ اداسی
مِری آنکھیں بھی پھر پلکیں سجانا بند کر دیں
انا کا بوجھ اٹھا کر جھک پڑے تہذیب کا سر
تو پھر مقتل میں اپنا سر کٹانا بند کر دیں
اس مصرعۂ بے جوڑ کا ثانی کہاں سے لاؤں
اب تیری طرح دشمنِ جانی کہاں سے لاؤں
کب تک رہے گی بند کھلونوں کی وہ دُکاں
بچوں کے لیے روز کہانی کہاں سے لاؤں
سب پوچھتے ہیں دل سے ہی اب دھڑکنوں کا راز
اب دھڑکنوں کی کوئی نشانی کہاں سے لاؤں
نشاطِ حسرت بے مول کیوں اُٹھائے پِھروں
کسی کے بولے ہوئے بول کیوں اٹھائے پھروں
بلا سے چشم تہی خواب کہہ دے یہ دنیا
میں اپنی آنکھوں میں کشکول کیوں اٹھائے پھروں
مکانِ دل پہ سنوں دستکیں نئے دن کی
بجھے ستاروں کے یہ جھول کیوں اٹھائے پھروں