Showing posts with label کلیم حاذق. Show all posts
Showing posts with label کلیم حاذق. Show all posts

Tuesday, 23 November 2021

کوئی خوشبو سی لہرائے تو کیسے

 کوئی خوشبو سی لہرائے تو کیسے

ہوا چپ ہے، صدا آئے تو کیسے

ہر اک رستہ کھلے بس تیری جانب

کوئی تجھ سے نکل پائے تو کیسے

ہر اک کمرے میں میں اک ہی آئینہ ہے

کوئی اب خود سے شرمائے تو کیسے

Saturday, 20 November 2021

جنوں پیشہ تقدیر سے کھیلتا ہے

 جنوں پیشہ تقدیر سے کھیلتا ہے

دِوانہ ہے، تصویر سے کھیلتا ہے

مِرے خواب ہیں اس کی آنکھوں کی زینت

زمانہ ہی تعبیر سے کھیلتا ہے

لٹاتا ہے دل بے طرح سے آنسو

ولی عہد، جاگیر سے کھیلتا ہے

Monday, 1 March 2021

حکایت وصل کی سب کو سنانا بند کر دیں

 حکایت وصل کی سب کو سنانا بند کر دیں

تو پھر یادیں بھی یوں پنکھا ہلانا بند کر دیں

ذرا چھٹ جائے اس کے خواب گہہ کی یہ اداسی

مِری آنکھیں بھی پھر پلکیں سجانا بند کر دیں

انا کا بوجھ اٹھا کر جھک پڑے تہذیب کا سر

تو پھر مقتل میں اپنا سر کٹانا بند کر دیں

Sunday, 28 February 2021

اس مصرعۂ بے جوڑ کا ثانی کہاں سے لاؤں

 اس مصرعۂ بے جوڑ کا ثانی کہاں سے لاؤں

اب تیری طرح دشمنِ جانی کہاں سے لاؤں

کب تک رہے گی بند کھلونوں کی وہ  دُکاں

بچوں کے لیے روز کہانی کہاں سے لاؤں

سب پوچھتے ہیں دل سے ہی اب دھڑکنوں کا راز

اب دھڑکنوں کی کوئی نشانی کہاں سے لاؤں

Saturday, 27 February 2021

نشاط حسرت بے مول کیوں اٹھائے پھروں

 نشاطِ حسرت بے مول کیوں اُٹھائے پِھروں

کسی کے بولے ہوئے بول کیوں اٹھائے پھروں

بلا سے چشم تہی خواب کہہ دے یہ دنیا

میں اپنی آنکھوں میں کشکول کیوں اٹھائے پھروں

مکانِ دل پہ سنوں دستکیں نئے دن کی

بجھے ستاروں کے یہ جھول کیوں اٹھائے پھروں