Saturday, 20 November 2021

جنوں پیشہ تقدیر سے کھیلتا ہے

 جنوں پیشہ تقدیر سے کھیلتا ہے

دِوانہ ہے، تصویر سے کھیلتا ہے

مِرے خواب ہیں اس کی آنکھوں کی زینت

زمانہ ہی تعبیر سے کھیلتا ہے

لٹاتا ہے دل بے طرح سے آنسو

ولی عہد، جاگیر سے کھیلتا ہے

بصد تشنہ کامی ملا ہے جو دریا

وہ ہونٹوں کی توقیر سے کھیلتا ہے

کلیم اس نے کی ہے ریاضت سخن کی

جو لفظوں کی تعمیر سے کھیلتا ہے


کلیم حاذق

No comments:

Post a Comment