جنوں پیشہ تقدیر سے کھیلتا ہے
دِوانہ ہے، تصویر سے کھیلتا ہے
مِرے خواب ہیں اس کی آنکھوں کی زینت
زمانہ ہی تعبیر سے کھیلتا ہے
لٹاتا ہے دل بے طرح سے آنسو
ولی عہد، جاگیر سے کھیلتا ہے
بصد تشنہ کامی ملا ہے جو دریا
وہ ہونٹوں کی توقیر سے کھیلتا ہے
کلیم اس نے کی ہے ریاضت سخن کی
جو لفظوں کی تعمیر سے کھیلتا ہے
کلیم حاذق
No comments:
Post a Comment