ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں
پھر زباں اپنی کھولتا ہوں میں
کیوں نہ میٹھا ہو نیم نفرت کا
پیار کا رس جو گھولتا ہوں میں
دوش دینے سے پہلے اوروں کو
عیب اپنا ٹٹولتا ہوں میں
ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں
پھر زباں اپنی کھولتا ہوں میں
کیوں نہ میٹھا ہو نیم نفرت کا
پیار کا رس جو گھولتا ہوں میں
دوش دینے سے پہلے اوروں کو
عیب اپنا ٹٹولتا ہوں میں
مر گئی میری آس منتری جی
اس لیے ہوں اداس منتری جی
آ رہی ہے سبھی دشاؤں سے
آج نفرت کی باس منتری جی
کھیت کھلیان میں بھی لاشوں کی
آپ اُگاتے ہیں گھاس منتری جی
اذہان رہنماؤں کے ناپاک ہو گئے
حالات اب وطن کے المناک ہو گئے
نا اہل باغباں کی حفاظت میں ہے چمن
ارماں حسین پھولوں کے سب خاک ہو گئے
بندوق کی زبان سے کرنے لگے ہیں بات
کچھ لوگ میرے شہر کے سفاک ہو گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تخلیق کائنات کا منشا رسول پاکﷺ
تکمیل خواہشات کا نقشہ رسول پاکﷺ
شیدا رسول پاکﷺ کا واجب الوجود
اور واجب الوجود کا شیدا رسول پاکﷺ
چھایا تھا کفریت کا اندھیرا چہار سمت
وحدانیت کا لائے اجالا رسول پاکﷺ
دور حاضر کا یہ کردار خدا خیر کرے
ماں سے بیٹے کو نہیں پیار خدا خیر کرے
پیار اوروں میں تو ہم بانٹ رہے تھے کل تک
آج آپس میں ہے تکرار خدا خیر کرے
بسکہ آباد ہمارے ہی لہو سے ہے چمن
ہم چمن کے نہیں حقدار خدا خیر کرے