Monday, 19 October 2026

زمیں تھی تنگ کھلا آسمان کیا رکھتے

 زمیں تھی تنگ کُھلا آسمان کیا رکھتے

ہم اپنے سر پہ کوئی سائبان کیا رکھتے

بہت طویل تھا انجان چاہتوں کا سفر

کہ چل رہے تھے مُسلسل تکان کیا رکھتے

جہاں بھی چھاؤں نظر آ گئی، پڑاؤ کیا

اک عُمر دشت میں گُزری مکان کیا رکھتے

نہ ہوتا خون ہمارا جو رنگ و نکہت میں

یہ پھُول چہرے بھلا آن بان کیا رکھتے

بھنا رہے ہیں جو اسلاف کے اصولوں کو

وہ اپنا نام و نسب خاندان کیا رکھتے

جھُلس گئے تھے تمازت سے بال و پر جن کے

وہ بد نصیب پرندے اُڑان کیا رکھتے


م ش نجمی

محمد شفیق نجمی

No comments:

Post a Comment