Wednesday, 7 October 2026

وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا

 وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا

مزاج پوچھنے والے کا حال ایسا تھا

کوئی چراغ سا چہرہ ادھر نہیں آیا

میں نا مراد تھا یارو کہ سال ایسا تھا

دبا دیا تھا کسی ہاتھ کو اندھیرے میں

وہ جان جائے گا میرا خیال ایسا تھا

میں گرد راہ سفر تھا کہاں تھا نقش مرا

الگ الگ تھا میں سب سے کمال ایسا تھا

وہ زہر قرب مجھے دے کے پھونک ڈالے گا

اسے غرور تھا اس کا جلال ایسا تھا

دعا سلام نہ ہوگی نگر بھی چھوڑوں گا

وہ ٹالتا بھی تو کیسے سوال ایسا تھا


پنڈت سریندر سوز

No comments:

Post a Comment