جوانی کتنی چھوٹی ہے
کہ میں سادہ سی لڑکی تھی
نہ بنتی تھی سنورتی تھی
مِرا بس دوش اتنا ہے
کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی
نہ اشکوں سے مراسم تھے
میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی
نہ مجھ کو خوفِ ماضی تھا
نہ مستقبل سے ڈرتی تھی
یہ سوچا تھا بڑے ہو کر
سبھی کچھ ہی صحیح ہو گا
جو میں نے سوچ رکھا ہے
یقیناً بس وہی ہو گا
مگر وہ ہو نہیں پایا
کہ اب جس راہ پہ جاتے ہیں
وہاں پہ خواب آتے ہیں
کسی سے ہنس کے بولو تو
ہے کس کو کب گوارا یار
نہیں ہے میرا کوئی بھی
بتاؤ ہے تمہارا یار
بڑا ہونا ہے کیا ہوتا
بڑے ہو کر سمجھ آیا
سیده فلزا تسکین
No comments:
Post a Comment