Showing posts with label توصیف زیدی. Show all posts
Showing posts with label توصیف زیدی. Show all posts

Thursday, 3 June 2021

جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی

 جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی

وہ محبت بھی کہیں قصہ کہانی ہو گئی

ایک سرکش تھی کہ جو مجھ پہ مَرا کرتی تھی

اس کا کہنا ہے کہ اب وہ بھی سیانی ہو گئی

اس کی مجبوری تھی وہ بول نہیں سکتی تھی

بات ایسی تھی کہ آنکھوں کی زبانی ہو گئی

Wednesday, 2 June 2021

اسے دیکھتے ہیں اسے دیکھتے ہیں

 اِسے دیکھتے ہیں اُسے دیکھتے ہیں

سبھی ہیں پریشاں جسے دیکھتے ہیں

تجھے دیکھتے جو نہیں اپنے دل میں

وہ بندے فلک پر کسے دیکھتے ہیں

نہیں کرتے ضائع بصیرت سبھی پر

جسے دیکھنا ہو، اسے دیکھتے ہیں

Sunday, 30 May 2021

تم جو ہر وقت مجھ میں حاضر ہو

 تم جو ہر وقت مجھ میں حاضر ہو

معجزہ ہو کوئی یا ساحر ہو؟

تم مِرے دل میں رہتے ہو پھر بھی

تم مِری دسترس سے باہر ہو

کاش خوابوں سے تم نکل آؤ

اور مجسم مِرے بظاہر ہو

Saturday, 29 May 2021

کسی بھی غیر پر فدا نہیں ہوا

 کسی بھی غیر پر فدا نہیں ہوا

بچھڑ گیا ہوں پر جدا نہیں ہوا

وہ جا چکا ہے چھوڑ کر مجھے مگر

یوں لگتا ہے کہ وہ گیا نہیں ہوا

چراغِ انتظار تابناک ہے

کسی سے میرا غم چھپا نہیں ہوا

Friday, 28 May 2021

میں مستی میں چل جو چال آیا کمال آیا

 میں مستی میں چل جو چال آیا کمال آیا

کہ ٹال ہستی کا جال آیا، کمال آیا

مثال میرے عروج کی دیتا تھا زمانہ

عروج کو جب زوال آیا، کمال آیا

تھے سر نِگوں جو ہیں آج آنکھیں دکھا رہے وہ

جو بھوکوں کے ہاتھ مال آیا، کمال آیا

Saturday, 27 March 2021

میں مستی میں چل جو چال آیا کمال آیا

 میں مستی میں چل جو چال آیا کمال آیا

کہ ٹال ہستی کا جال آیا، کمال آیا

مثال میرے عروج کی دیتا تھا زمانہ

عروج کو جب زوال آیا، کمال آیا

تھے سر نِگوں جو ہیں آج آنکھیں دکھا رہے وہ

جو بھوکوں کے ہاتھ مال آیا، کمال آیا

Friday, 26 March 2021

بد مست سی آنکھوں سے جا لڑا دل

 بد مست سی آنکھوں سے جا لڑا دل

خوباں ہے حسیں جس پہ جا مَرا دل

اُس دل سے معرف ہوا ہے جب سے

مجھ سے نہ رہا آشنا مِرا دل

اس سے نہیں بننی بتا رہا ہوں

مجبوری سمجھ میری باز آ دل