جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی
وہ محبت بھی کہیں قصہ کہانی ہو گئی
ایک سرکش تھی کہ جو مجھ پہ مَرا کرتی تھی
اس کا کہنا ہے کہ اب وہ بھی سیانی ہو گئی
اس کی مجبوری تھی وہ بول نہیں سکتی تھی
بات ایسی تھی کہ آنکھوں کی زبانی ہو گئی
جس محبت کی نذر اپنی جوانی ہو گئی
وہ محبت بھی کہیں قصہ کہانی ہو گئی
ایک سرکش تھی کہ جو مجھ پہ مَرا کرتی تھی
اس کا کہنا ہے کہ اب وہ بھی سیانی ہو گئی
اس کی مجبوری تھی وہ بول نہیں سکتی تھی
بات ایسی تھی کہ آنکھوں کی زبانی ہو گئی
اِسے دیکھتے ہیں اُسے دیکھتے ہیں
سبھی ہیں پریشاں جسے دیکھتے ہیں
تجھے دیکھتے جو نہیں اپنے دل میں
وہ بندے فلک پر کسے دیکھتے ہیں
نہیں کرتے ضائع بصیرت سبھی پر
جسے دیکھنا ہو، اسے دیکھتے ہیں
تم جو ہر وقت مجھ میں حاضر ہو
معجزہ ہو کوئی یا ساحر ہو؟
تم مِرے دل میں رہتے ہو پھر بھی
تم مِری دسترس سے باہر ہو
کاش خوابوں سے تم نکل آؤ
اور مجسم مِرے بظاہر ہو
کسی بھی غیر پر فدا نہیں ہوا
بچھڑ گیا ہوں پر جدا نہیں ہوا
وہ جا چکا ہے چھوڑ کر مجھے مگر
یوں لگتا ہے کہ وہ گیا نہیں ہوا
چراغِ انتظار تابناک ہے
کسی سے میرا غم چھپا نہیں ہوا
میں مستی میں چل جو چال آیا کمال آیا
کہ ٹال ہستی کا جال آیا، کمال آیا
مثال میرے عروج کی دیتا تھا زمانہ
عروج کو جب زوال آیا، کمال آیا
تھے سر نِگوں جو ہیں آج آنکھیں دکھا رہے وہ
جو بھوکوں کے ہاتھ مال آیا، کمال آیا
میں مستی میں چل جو چال آیا کمال آیا
کہ ٹال ہستی کا جال آیا، کمال آیا
مثال میرے عروج کی دیتا تھا زمانہ
عروج کو جب زوال آیا، کمال آیا
تھے سر نِگوں جو ہیں آج آنکھیں دکھا رہے وہ
جو بھوکوں کے ہاتھ مال آیا، کمال آیا
بد مست سی آنکھوں سے جا لڑا دل
خوباں ہے حسیں جس پہ جا مَرا دل
اُس دل سے معرف ہوا ہے جب سے
مجھ سے نہ رہا آشنا مِرا دل
اس سے نہیں بننی بتا رہا ہوں
مجبوری سمجھ میری باز آ دل