Showing posts with label سلیم محی الدین. Show all posts
Showing posts with label سلیم محی الدین. Show all posts

Saturday, 16 July 2022

عکس حیران ہے آئینہ کون ہے

 عکس حیران ہے، آئینہ کون ہے

وہ ہے خوشبو تو پھر پھول سا کون ہے

دل سے نکلے ہو پلکوں پہ دم لو ذرا

ہو مسافر، تمہیں روکتا کون ہے

اک سمندر نے خود کو جزیرہ کیا

کیا ہُوا کیوں ہُوا پوچھتا کون ہے

Tuesday, 1 March 2022

آئینوں سے دھول مٹانے آتے ہیں

 آئینوں سے دھول مٹانے آتے ہیں

کچھ موسم تو آگ لگانے آتے ہیں

نیند تو گویا ان آنکھوں کی دشمن ہے

مجھ کو پھر بھی خواب سہانے آتے ہیں

ان آنکھوں میں رنگ تمہارے کھلتے ہیں

یہ موسم کب پھول کھلانے آتے ہیں

Wednesday, 1 December 2021

ذلیل و خوار ہوتی جا رہی ہے

 ذلیل و خوار ہوتی جا رہی ہے

غزل اخبار ہوتی جا رہی ہے

سمٹتا جا رہا ہے گھر کا آنگن

انا دیوار ہوتی جا رہی ہے

کوئی بادل کوئی صورت کوئی دل

نظر بیمار ہوتی جا رہی ہے

Sunday, 28 November 2021

لازم ہے آدمی کے لیے ذات کا سفر

 لازم ہے آدمی کے لیے ذات کا سفر

اس دور میں کٹھن ہے مگر رات کا سفر

ساحل قریب آتے ہی کشتی سلگ اٹھی

شاید ہوا تمام ہے جذبات کا سفر

اُڑنے لگا ہوں جیسے مجھے پنکھ لگ گئے

تعبیر ہو گیا ہے ملاقات کا سفر

Saturday, 27 November 2021

مری آنکھ میں ترا نور ہے

 حمدِ باری تعالیٰ


مِری آنکھ میں تِرا نور ہے

جہاں عشق ہے وہیں طور ہے

میں الجھ گیا مِرے عکس میں

تِرے آئینہ کا قصور ہے

وہی رات دن وہی صبح و شام

نہ غروب ہے، نہ ظہور ہے

Friday, 26 November 2021

زلفوں کو زنجیر بناتا رہتا ہوں

 زلفوں کو زنجیر بناتا رہتا ہوں

بادل سے تصویر اُگاتا رہتا ہوں

کاغذ کا دل تِل تِل کالا ہوتا ہے

اپنے عیبوں پر شرماتا رہتا ہوں

ہر رشتے کی اپنی حِدت ہوتی ہے

مٹی رکھ کر چاک گُھماتا رہتا ہوں