عکس حیران ہے، آئینہ کون ہے
وہ ہے خوشبو تو پھر پھول سا کون ہے
دل سے نکلے ہو پلکوں پہ دم لو ذرا
ہو مسافر، تمہیں روکتا کون ہے
اک سمندر نے خود کو جزیرہ کیا
کیا ہُوا کیوں ہُوا پوچھتا کون ہے
عکس حیران ہے، آئینہ کون ہے
وہ ہے خوشبو تو پھر پھول سا کون ہے
دل سے نکلے ہو پلکوں پہ دم لو ذرا
ہو مسافر، تمہیں روکتا کون ہے
اک سمندر نے خود کو جزیرہ کیا
کیا ہُوا کیوں ہُوا پوچھتا کون ہے
آئینوں سے دھول مٹانے آتے ہیں
کچھ موسم تو آگ لگانے آتے ہیں
نیند تو گویا ان آنکھوں کی دشمن ہے
مجھ کو پھر بھی خواب سہانے آتے ہیں
ان آنکھوں میں رنگ تمہارے کھلتے ہیں
یہ موسم کب پھول کھلانے آتے ہیں
ذلیل و خوار ہوتی جا رہی ہے
غزل اخبار ہوتی جا رہی ہے
سمٹتا جا رہا ہے گھر کا آنگن
انا دیوار ہوتی جا رہی ہے
کوئی بادل کوئی صورت کوئی دل
نظر بیمار ہوتی جا رہی ہے
لازم ہے آدمی کے لیے ذات کا سفر
اس دور میں کٹھن ہے مگر رات کا سفر
ساحل قریب آتے ہی کشتی سلگ اٹھی
شاید ہوا تمام ہے جذبات کا سفر
اُڑنے لگا ہوں جیسے مجھے پنکھ لگ گئے
تعبیر ہو گیا ہے ملاقات کا سفر
حمدِ باری تعالیٰ
مِری آنکھ میں تِرا نور ہے
جہاں عشق ہے وہیں طور ہے
میں الجھ گیا مِرے عکس میں
تِرے آئینہ کا قصور ہے
وہی رات دن وہی صبح و شام
نہ غروب ہے، نہ ظہور ہے
زلفوں کو زنجیر بناتا رہتا ہوں
بادل سے تصویر اُگاتا رہتا ہوں
کاغذ کا دل تِل تِل کالا ہوتا ہے
اپنے عیبوں پر شرماتا رہتا ہوں
ہر رشتے کی اپنی حِدت ہوتی ہے
مٹی رکھ کر چاک گُھماتا رہتا ہوں