Showing posts with label صغیر صوفی. Show all posts
Showing posts with label صغیر صوفی. Show all posts

Saturday, 9 March 2024

محبت میں وفاؤں کا یہی انعام ہے صوفی

 محبت میں وفاؤں کا یہی انعام ہے صوفی

لیے داغ جدائی حسرت ناکام ہے صوفی

اگر الزام ہے کوئی تو یہ الزام ہے صوفی

کہ تو اپنی شرافت کے لیے بدنام ہے صوفی

ہمیں ہر دور میں تھے گردش ایام کے مارے

مگر ہم سے علاج گردش ایام ہے صوفی

Friday, 2 April 2021

صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں

صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں

آج تمہارے شہر میں پیارے جوگی بن کر آئے ہیں

چاروں اور اندھیرا پا کر من کی جوت جگائے ہیں

جو عالم میں رُسوا کر دے ایسا روگ لگائے ہیں

غم کی باتیں کہتے کہتے ہونٹوں کو سی لیتے ہیں

کتنا بوجھ ہے بھاری دل پر جو برسوں سے اُٹھائے ہیں

Tuesday, 1 December 2020

ہر انجمن میں دعویٔ وحشت کیا کرو

ہر انجمن میں دعویٔ وحشت کِیا کرو

کُڑھتا ہو جی تو لوگوں سے نفرت کیا کرو

جن دوستوں کے بَل پہ سجاتے ہو بزمِ خاص

اُن سب کی احتیاط سے غِیبت کیا کرو

توبہ کرو جو صُبح میں ٹُوٹے بدن کی شاخ

شب میں بیان مے کی فضیلت کیا کرو

Monday, 30 November 2020

کام آئی عشق کی دیوانگی کل رات کو

 کام آئی عشق کی دیوانگی کل رات کو

حسن نے بخشی متاعِ دوستی کل رات کو

قامتِ دلکش لباسِ سرخ میں تھی مہماں

میرے گھر اک سرخ مخمل کی پری کل رات کو

تمتمائے گال، بھیگے ہونٹ، چشم نیم وا

تھی مجسم جیسے میری شاعری کل رات کو