محبت میں وفاؤں کا یہی انعام ہے صوفی
لیے داغ جدائی حسرت ناکام ہے صوفی
اگر الزام ہے کوئی تو یہ الزام ہے صوفی
کہ تو اپنی شرافت کے لیے بدنام ہے صوفی
ہمیں ہر دور میں تھے گردش ایام کے مارے
مگر ہم سے علاج گردش ایام ہے صوفی
محبت میں وفاؤں کا یہی انعام ہے صوفی
لیے داغ جدائی حسرت ناکام ہے صوفی
اگر الزام ہے کوئی تو یہ الزام ہے صوفی
کہ تو اپنی شرافت کے لیے بدنام ہے صوفی
ہمیں ہر دور میں تھے گردش ایام کے مارے
مگر ہم سے علاج گردش ایام ہے صوفی
صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں
آج تمہارے شہر میں پیارے جوگی بن کر آئے ہیں
چاروں اور اندھیرا پا کر من کی جوت جگائے ہیں
جو عالم میں رُسوا کر دے ایسا روگ لگائے ہیں
غم کی باتیں کہتے کہتے ہونٹوں کو سی لیتے ہیں
کتنا بوجھ ہے بھاری دل پر جو برسوں سے اُٹھائے ہیں
ہر انجمن میں دعویٔ وحشت کِیا کرو
کُڑھتا ہو جی تو لوگوں سے نفرت کیا کرو
جن دوستوں کے بَل پہ سجاتے ہو بزمِ خاص
اُن سب کی احتیاط سے غِیبت کیا کرو
توبہ کرو جو صُبح میں ٹُوٹے بدن کی شاخ
شب میں بیان مے کی فضیلت کیا کرو
کام آئی عشق کی دیوانگی کل رات کو
حسن نے بخشی متاعِ دوستی کل رات کو
قامتِ دلکش لباسِ سرخ میں تھی مہماں
میرے گھر اک سرخ مخمل کی پری کل رات کو
تمتمائے گال، بھیگے ہونٹ، چشم نیم وا
تھی مجسم جیسے میری شاعری کل رات کو