رہِ بشر میں وہی تو ببول رکھتے ہیں
جو اپنے ذہن میں فکرِ فضول رکھتے ہیں
جو لوگ ہوتے ہیں موسم صفت زمانے میں
کہاں وہ زیست میں پاسِ اصول رکھتے ہیں
بلندی بخشتے ہیں رتبۂ نشیمن کو
کھلا کے مالی جو پت جھڑ میں پھول رکھتے ہیں
رہِ بشر میں وہی تو ببول رکھتے ہیں
جو اپنے ذہن میں فکرِ فضول رکھتے ہیں
جو لوگ ہوتے ہیں موسم صفت زمانے میں
کہاں وہ زیست میں پاسِ اصول رکھتے ہیں
بلندی بخشتے ہیں رتبۂ نشیمن کو
کھلا کے مالی جو پت جھڑ میں پھول رکھتے ہیں
ہشیار نہیں شخص وہ نادان بہت ہے
جو خواہشِ دولت میں پریشان بہت ہے
ذلت کے نہیں چاہیۓ تر ہم کو نوالے
عزت کی روکھی اپنے لیے نان بہت ہے
کیوں پیچھے زمانے کے چلیں زندگی میں ہم
اپنی تو ہدایت کو یہ قرآن بہت ہے
وفا کی منزلوں کو ہم نے اس طرح سجا لیا
قدم قدم پہ اک چراغِ آرزو جلا لیا
رہِ حیات میں ہزار الجھنیں رہیں مگر
تمہارا غم جہاں ملا، اسے گلے لگا لیا
ہمارے حوصلے ہماری جرأتیں تو دیکھیے
قضا کو اپنی زندگی کا پاسباں بنا لیا
جل گئے افکار تیرے، میری تحریریں جلیں
اب نمائش کس کی ہو گی ساری تصویریں جلیں
جن کی بنیادوں میں اک تقدیس تھی تہذیب تھی
آج میرے شہر کی وہ ساری تعمیریں جلیں
یہ تو زنداں کے نگہباں ہی بتائیں گے تمہیں
کن اسیروں نے لگائی آگ، زنجیریں جلیں
قربِ منزل ٹوٹ جائے حوصلا اچھا نہیں
فصل کو پکنے سے پہلے کاٹنا اچھا نہیں
ڈوبنے والے بھی اس کشتی کے کم شاطر نہ تھے
عادتاً کہتے رہے تھے؛ نا خدا اچھا نہیں
غیر کو پہلے پرکھتے مجھ سے پھر منہ موڑتے
جلد بازی میں تمہارا فیصلہ اچھا نہیں