Showing posts with label احمد علی برقی. Show all posts
Showing posts with label احمد علی برقی. Show all posts

Sunday, 2 June 2024

زندگی کی تلخیاں سب راحتِ جاں ہو گئیں

 زندگی کی تلخیاں سب راحتِ جاں ہو گئیں

'مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں'

کشتیٔ عمرِ رواں کو دیکھ کر اس میں مِری

سخت جانی سے مِری موجیں پریشاں ہو گئیں

آج کورونا وائرس سے ہیں سبھی وحشت زدہ

اس کے آگے سب وبائیں طاقِ نسیاں ہو گئیں

Saturday, 6 August 2022

کربلا کے جاں نثاروں کو سلام

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امام حسینؑ


کربلا کے جاں نثاروں کو سلام

بھوکے پیاسے غم کے ماروں کو سلام

سرخرو ہیں اپنی قربانی سے جو

دین حق کے پاسداروں کو سلام

ہو گئے جو حرمتِ دیں پر نثار

ان بہادر دینداروں کو سلام

Friday, 21 May 2021

وہ جلوہ گاہ ناز میں جس وقت آ گئے

 وہ جلوہ گاہ ناز میں جس وقت آ گئے

ناز و ادا سے ہوش سبھی کے اڑا گئے

دل میں وہ آ کے حسرت و ارماں جگا گئے

امید کے چراغ جلا کر بجھا گئے

اس طرح اپنا جلوۂ زیبا دکھا گئے

آ کر نگاہ شوق سے دل میں سما گئے

Monday, 17 May 2021

لوٹ کر جیسے دور شباب آ گیا

 لوٹ کر جیسے دورِ شباب آ گیا

آپ کیا آ گئے، انقلاب آ گیا

اس طرح دل کے ارمان پورے ہوئے

نامہ بر لے کے خط کا جواب آ گیا

دیکھنے کو ترستی تھیں آنکھیں جسے

سامنے وہ مِرے بے حجاب آ گیا

Wednesday, 31 March 2021

وجد آور تھا ترا جلوہ نما ہو جانا

 وجد آور تھا تِرا جلوہ نما ہو جانا

روح فرسا ہے مگر مل کے جُدا ہو جانا

غمزہ و ناز و ادا یاد ہے تیرا جس سے

دل کا میرے ہدفِ تیرِ قضا ہو جانا

یاد ہے اب بھی وہ شمعِ رخِ زیبا تیری

مثلِ پروانہ مِرا اس پہ فدا ہو جانا

Saturday, 27 March 2021

ارمان اپنے مل گئے سارے غبار میں

 ارمان اپنے مِل گئے سارے غبار میں

’’دو گز زمیں بھی مِل نہ سکی کُوئے یار میں‘‘

آیا نہ وہ بھی پُرسشِ احوال کے لیے

کر دی متاعِ شوق فدا جس کے پیار میں

معلوم ہے نہ آئے گا وعدہ شکن، مگر

ہیں اب بھی اپنے دیدہ و دل انتطار میں

رات بھر خواب میں یوں انجمن آرائی کی

 رات بھر خواب میں یوں انجمن آرائی کی

اس کی تصویر تصور سے دلآرائی کی

جانے کب دے گا درِ دل پہ وہ آ کر دستک

اب تو حد ہو گئی مہجوری و تنہائی کی

جان لے لے نہ کہیں وعدۂ فردا اس کا

مجھ میں طاقت نہیں اب اور شکیبائی کی

جدت فکر و نظر حسن معانی مانگے

جدتِ فکر و نظر حسنِ معانی مانگے

شاعری خون، جگر سوز نہانی مانگے

دن کا شہزادہ ہے جو رات کی رانی مانگے

روز پُر کیف و حسیں شام سہانی مانگے

قصۂ وامق و عذرا سے نہیں اس کو غرض

بُوالہوس روز نئی ایک کہانی مانگے

جا رہے ہیں آپ تو پھر مسکراتے جائیے

 جا رہے ہیں آپ تو پھر مسکراتے جائیے

’’یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے‘‘

خانۂ دل جس میں مہماں تھے وہ ڈھاتے جائیے

نقش ہیں جو لوحِ دل پر وہ مٹاتے جائیے

خونِ دل جتنا جلانا ہے جلاتے جائیے

جشنِ بربادی محبت کا مناتے جائیے