Monday, 17 May 2021

لوٹ کر جیسے دور شباب آ گیا

 لوٹ کر جیسے دورِ شباب آ گیا

آپ کیا آ گئے، انقلاب آ گیا

اس طرح دل کے ارمان پورے ہوئے

نامہ بر لے کے خط کا جواب آ گیا

دیکھنے کو ترستی تھیں آنکھیں جسے

سامنے وہ مِرے بے حجاب آ گیا

گلشنِ دل پہ اک تازگی چھا گئی

بن کے وہ اک مجسّم گلاب آ گیا

عالمِ خواب میں جس کو پڑھتا تھا میں

رُوئے زیبا کی لے کر کتاب آ گیا

جس کے جانے سے تاریک تھی زندگی

خانۂ دل میں با آب و تاب آ گیا

ذہن ماؤف تھا گنتے گنتے جسے

آج برقی وہ روزِ حساب آ گیا


احمد علی برقی اعظمی

No comments:

Post a Comment