آگہی کی، عقل کی، ترسیل ہوتی ہے یہاں
مصطفیٰؐ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے یہاں
قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
فطرتِ اِنسانیت تشکیل ہوتی ہے یہاں
رغبتِ آدابِ اسماعیلؑ ہوتی ہے یہاں
آگہی کی، عقل کی، ترسیل ہوتی ہے یہاں
مصطفیٰؐ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے یہاں
قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
فطرتِ اِنسانیت تشکیل ہوتی ہے یہاں
رغبتِ آدابِ اسماعیلؑ ہوتی ہے یہاں
سائل کے لبوں پر ہے دعا اور طرح کی
افلاک سے آتی ہے صدا اور طرح کی
ہے زیست اگر جرم تو اے منصفِ عالم
جرم اور طرح کا ہے سزا اور طرح کی
اس دل میں ہے مفہومِ کرم اور طرح کا
اس دل میں ہے تفہیمِ وفا اور طرح کی
سنا ہے اس نے خزاں کو بہار کرنا ہے
یہ جھُوٹ تو ہے مگر اعتبار کرنا ہے
یہ اور بات ملاقات ہو نہ ہو لیکن
قیامتوں کا ہمیں انتظار کرنا ہے
محبتوں کو بھی اس نے خطا قرار دیا
مگر یہ جرم ہمیں بار بار کرنا ہے
بے کسی پر ظلم لا محدود ہے
مطلعِ انصاف ابر آلود ہے
وقت کی قیمت ادا کرنے کے بعد
عہد کا فرعون پھر مسجود ہے
ہر طرف زر کی پرستش ہے یہاں
سنتے آئے تھے خدا معبود ہے
محبتوں نے بڑی ہیر پھیر کر دی ہے
وفا غرور کے قدموں میں ڈھیر کر دی ہے
کٹی ہے رات بڑے اضطراب میں اپنی
تِرِے خیال میں ہم نے سویر کر دی ہے
ہم اہلِ عشق تو برسوں کے مر گئے ہوتے
عروسِ مرگ نے آنے میں دیر کر دی ہے
موجِ بلا میں روز کوئی ڈُوبتا رہے
ساحل ہر ایک بار مگر دیکھتا رہے
یاروں کی کشتیاں رہیں ساحل سے بے نیاز
طوفاں سے بے نیاز اگر ناخدا رہے
خیرات میں کبھی نہیں مانگیں محبتیں
ہر چند میرے دوست مجھے آزما رہے
گُہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا
کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا
جسے نِسبت رہی قوسِ قزح سے
ہواؤں کی طرح بے رنگ نکلا
غزل کے رنگ میں ملبوس ہو کر
ربابِ درد سے آہنگ نکلا
ساحل کے طلب گار بھی کیا خوب رہے ہیں
کہتے تھے نہ ڈوبیں گے مگر ڈوب رہے ہیں
تُو لاکھ رہے اہلِ محبت سے گریزاں
ہم لوگ تِرے نام سے منسوب رہے ہیں
دیکھا ہے محبت کو عبادت کی نظر سے
نفرت کے عوامل ہمیں معیوب رہے ہیں
کیفِ حیات تیرے سوا کچھ نہیں رہا
تیری قسم ہے تجھ سے جدا کچھ نہیں رہا
واللہ، سب رُتیں ہیں پریشاں ترے بغیر
واللہ، موسموں کا مزا کچھ نہیں رہا
طوفان ساحلوں کو اڑاتے چلے گئے
کیسے کہوں کہ کچھ بھی رہا کچھ نہیں رہا