Showing posts with label اقبال کیفی. Show all posts
Showing posts with label اقبال کیفی. Show all posts

Monday, 20 February 2023

آگہی کی عقل کی ترسیل ہوتی ہے یہاں

 آگہی کی، عقل کی، ترسیل ہوتی ہے یہاں

مصطفیٰؐ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے یہاں

قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں

اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

فطرتِ اِنسانیت تشکیل ہوتی ہے یہاں

رغبتِ آدابِ اسماعیلؑ ہوتی ہے یہاں

Thursday, 14 October 2021

سائل کے لبوں پر ہے دعا اور طرح کی

 سائل کے لبوں پر ہے دعا اور طرح کی

افلاک سے آتی ہے صدا اور طرح کی

ہے زیست اگر جرم تو اے منصفِ عالم

جرم اور طرح کا ہے سزا اور طرح کی

اس دل میں ہے مفہومِ کرم اور طرح کا

اس دل میں ہے تفہیمِ وفا اور طرح کی

Monday, 14 June 2021

سنا ہے اس نے خزاں کو بہار کرنا ہے

 سنا ہے اس نے خزاں کو بہار کرنا ہے

یہ جھُوٹ تو ہے مگر اعتبار کرنا ہے

یہ اور بات ملاقات ہو نہ ہو لیکن

قیامتوں کا ہمیں انتظار کرنا ہے

محبتوں کو بھی اس نے خطا قرار دیا

مگر یہ جرم ہمیں بار بار کرنا ہے

Friday, 11 June 2021

بے کسی پر ظلم لا محدود ہے

 بے کسی پر ظلم لا محدود ہے

مطلعِ انصاف ابر آلود ہے

وقت کی قیمت ادا کرنے کے بعد

عہد کا فرعون پھر مسجود ہے

ہر طرف زر کی پرستش ہے یہاں

سنتے آئے تھے خدا معبود ہے

محبتوں نے بڑی ہیر پھیر کر دی ہے

 محبتوں نے بڑی ہیر پھیر کر دی ہے

وفا غرور کے قدموں میں ڈھیر کر دی ہے

کٹی ہے رات بڑے اضطراب میں اپنی

تِرِے خیال میں ہم نے سویر کر دی ہے

ہم اہلِ عشق تو برسوں کے مر گئے ہوتے

عروسِ مرگ نے آنے میں دیر کر دی ہے

Thursday, 10 June 2021

موج بلا میں روز کوئی ڈوبتا رہے

 موجِ بلا میں روز کوئی ڈُوبتا رہے

ساحل ہر ایک بار مگر دیکھتا رہے

یاروں کی کشتیاں رہیں ساحل سے بے نیاز

طوفاں سے بے نیاز اگر ناخدا رہے

خیرات میں کبھی نہیں مانگیں محبتیں

ہر چند میرے دوست مجھے آزما رہے

Wednesday, 9 June 2021

گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا

 گُہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا

کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا

جسے نِسبت رہی قوسِ قزح سے

ہواؤں کی طرح بے رنگ نکلا

غزل کے رنگ میں ملبوس ہو کر

ربابِ درد سے آہنگ نکلا

ساحل کے طلبگار بھی کیا خوب رہے ہیں

 ساحل کے طلب گار بھی کیا خوب رہے ہیں

کہتے تھے نہ ڈوبیں گے مگر ڈوب رہے ہیں

تُو لاکھ رہے اہلِ محبت سے گریزاں

ہم لوگ تِرے نام سے منسوب رہے ہیں

دیکھا ہے محبت کو عبادت کی نظر سے

نفرت کے عوامل ہمیں معیوب رہے ہیں

Wednesday, 18 November 2020

کیف حیات تیرے سوا کچھ نہیں رہا

 کیفِ حیات تیرے سوا کچھ نہیں رہا

تیری قسم ہے تجھ سے جدا کچھ نہیں رہا

واللہ، سب رُتیں ہیں پریشاں ترے بغیر

واللہ، موسموں کا مزا کچھ نہیں رہا

طوفان ساحلوں کو اڑاتے چلے گئے

کیسے کہوں کہ کچھ بھی رہا کچھ نہیں رہا