Wednesday, 9 June 2021

ساحل کے طلبگار بھی کیا خوب رہے ہیں

 ساحل کے طلب گار بھی کیا خوب رہے ہیں

کہتے تھے نہ ڈوبیں گے مگر ڈوب رہے ہیں

تُو لاکھ رہے اہلِ محبت سے گریزاں

ہم لوگ تِرے نام سے منسوب رہے ہیں

دیکھا ہے محبت کو عبادت کی نظر سے

نفرت کے عوامل ہمیں معیوب رہے ہیں

لمحوں کے لیے ایک نظر ان کو تو دیکھو

صدیوں کی صلیبوں پہ جو مصلوب رہے ہیں


اقبال کیفی

No comments:

Post a Comment