ساحل کے طلب گار بھی کیا خوب رہے ہیں
کہتے تھے نہ ڈوبیں گے مگر ڈوب رہے ہیں
تُو لاکھ رہے اہلِ محبت سے گریزاں
ہم لوگ تِرے نام سے منسوب رہے ہیں
دیکھا ہے محبت کو عبادت کی نظر سے
نفرت کے عوامل ہمیں معیوب رہے ہیں
لمحوں کے لیے ایک نظر ان کو تو دیکھو
صدیوں کی صلیبوں پہ جو مصلوب رہے ہیں
اقبال کیفی
No comments:
Post a Comment