حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام
آسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمام
رفتہ رفتہ رسم سنگباری جہاں سے اٹھ گئی
دھیرے دھیرے ہو گئے بستی کے سب پتھر تمام
تشنہ لب دھرتی پہ جب بہتا ہے پیاسوں کا لہو
مدتوں مقتل میں سر خم رہتے ہیں خنجر تمام
حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام
آسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمام
رفتہ رفتہ رسم سنگباری جہاں سے اٹھ گئی
دھیرے دھیرے ہو گئے بستی کے سب پتھر تمام
تشنہ لب دھرتی پہ جب بہتا ہے پیاسوں کا لہو
مدتوں مقتل میں سر خم رہتے ہیں خنجر تمام
کارنامہ اے غم دل! کچھ تِرا یہ کم نہیں
بہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیں
صاف تھا ہر لفظ اس کی بے بدل تقریر کا
پھر لہو نے نقش جو چھوڑے ہیں وہ مبہم نہیں
ہر زمانہ میں نہیں پہچاننا مشکل انہیں
سر قلم ہوتے رہیں گے ان کے لیکن غم نہیں
گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا
قلب شکستہ اور یہ عالم گداز کا
چاروں طرف سجی ہیں دکانیں خلوص کی
چمکا ہے کاروبار ہر اک حیلہ ساز کا
وہ چاہے خواب ہو کہ حقیقت مگر کبھی
احساں اٹھائے گا نہ لباسِ مجاز کا
سفر کا شوق، نہ منزل کی جستجو باقی
مسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقی
تمام رات ہواؤں کا گشت جاری تھا
سویرے تک نہ رہا کوئی ہو بہ ہو باقی
سبھی طرح سے تعارف تو ہو گیا ان کا
رہی ہے اب تو ملاقات روبرو باقی
جب جب بھی دیکھیے اسے خونْبار سی لگے
دنیا ہمیشہ بر سرِ پیکار سی لگے
ہر ہر نفس پہ رنگ بدلتی ہے زندگی
اک پھول سی لگے ہے کبھی خار سی لگے
چہرہ ہے میرے دوست کا یا کوئی آئینہ
دیکھوں الٹ پلٹ کے تو بھی آرسی لگے
سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں
ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں
یہ جان کر بھی کہ پتھر ہر ایک ہاتھ میں ہے
جیالے لوگ ہیں شیشوں کے گھر بناتے ہیں
جو رہنے والے ہیں لوگ ان کو گھر نہیں دیتے
جو رہنے والا نہیں اس کے گھر بناتے ہیں