Showing posts with label عابد ادیب. Show all posts
Showing posts with label عابد ادیب. Show all posts

Wednesday, 17 May 2023

حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام

 حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام

آسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمام

رفتہ رفتہ رسم سنگباری جہاں سے اٹھ گئی

دھیرے دھیرے ہو گئے بستی کے سب پتھر تمام

تشنہ لب دھرتی پہ جب بہتا ہے پیاسوں کا لہو

مدتوں مقتل میں سر خم رہتے ہیں خنجر تمام

Thursday, 24 February 2022

کارنامہ اے غم دل کچھ ترا یہ کم نہیں

 کارنامہ اے غم دل! کچھ تِرا یہ کم نہیں

بہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیں

صاف تھا ہر لفظ اس کی بے بدل تقریر کا

پھر لہو نے نقش جو چھوڑے ہیں وہ مبہم نہیں

ہر زمانہ میں نہیں پہچاننا مشکل انہیں

سر قلم ہوتے رہیں گے ان کے لیکن غم نہیں

Wednesday, 12 January 2022

گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا

 گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا

قلب شکستہ اور یہ عالم گداز کا

چاروں طرف سجی ہیں دکانیں خلوص کی

چمکا ہے کاروبار ہر اک حیلہ ساز کا

وہ چاہے خواب ہو کہ حقیقت مگر کبھی

احساں اٹھائے گا نہ لباسِ مجاز کا

Sunday, 19 December 2021

سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقی

 سفر کا شوق، نہ منزل کی جستجو باقی

مسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقی

تمام رات ہواؤں کا گشت جاری تھا

سویرے تک نہ رہا کوئی ہو بہ ہو باقی

سبھی طرح سے تعارف تو ہو گیا ان کا

رہی ہے اب تو ملاقات روبرو باقی

Saturday, 18 December 2021

جب جب بھی دیکھیے اسے خوں بار سی لگے

جب جب بھی دیکھیے اسے خونْبار سی لگے

دنیا ہمیشہ بر سرِ پیکار سی لگے

ہر ہر نفس پہ رنگ بدلتی ہے زندگی

اک پھول سی لگے ہے کبھی خار سی لگے

چہرہ ہے میرے دوست کا یا کوئی آئینہ

دیکھوں الٹ پلٹ کے تو بھی آرسی لگے

Friday, 7 May 2021

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

 سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

یہ جان کر بھی کہ پتھر ہر ایک ہاتھ میں ہے

جیالے لوگ ہیں شیشوں کے گھر بناتے ہیں

جو رہنے والے ہیں لوگ ان کو گھر نہیں دیتے

جو رہنے والا نہیں اس کے گھر بناتے ہیں