Showing posts with label کویتا کرن. Show all posts
Showing posts with label کویتا کرن. Show all posts

Tuesday, 23 November 2021

آئینہ دیکھتا رہتا ہے سنورنے والا

 آئینہ دیکھتا رہتا ہے سنورنے والا

کون اب ہو گا یہاں پیار پہ مرنے والا

کس کی چاہت کا بھرم رکھتا ہے دل میں اپنے

تیری خاطر نہیں کوئی بھی مرنے والا

بزم سے اٹھنے سے پہلے یہ ذرا سوچ بھی لے

خواب بن جائے گا نظروں سے گزرنے والا

Sunday, 13 June 2021

خزاں کا خوف بھی ہے موسم بہار بھی ہے

 خزاں کا خوف بھی ہے موسم بہار بھی ہے

کبھی تمہارا کبھی اپنا انتظار بھی ہے

سمٹتی جاتی ہوں بڑھتی ہیں دوریاں جب بھی

عجیب شخص ہے نفرت بھی اس سے پیار بھی ہے

ہوا ہے زخمی مِرا اعتماد جس دن سے

اداس ہی نہیں دل میرا بے قرار بھی ہے

Saturday, 12 June 2021

رہ وفا میں ہمیں جتنے ہم خیال ملے

 رہِ وفا میں ہمیں جتنے ہم خیال ملے

ان ہی کی آنکھوں میں ہم کو کئی سوال ملے

وہ لوگ جن کی ہمیں فکر رہتی ہے ہر دم

وہ جب کبھی بھی ملے ہم سے حسبِ حال ملے

کسی گھرانے کسی ذات سے نہیں مطلب

یہ ہم بھی جانتے ہیں دل ملے، خیال ملے

ملا تھا کوئی سر راہ اجنبی کی طرح

 ملا تھا کوئی سرِ راہ اجنبی کی طرح

عزیز لگتا ہے جو مجھ کو زندگی کی طرح 

وہ ایک شخص اندھیروں میں جس نے چھوڑ دیا 

وہ اب بھی رہتا ہے آنکھوں میں روشنی کی طرح 

یہ آرزو مِری برسوں کی ہے کہ آپ ملیں 

فرشتہ بن کے نہیں بن کے آدمی کی طرح

Friday, 11 June 2021

آتے جاتے لوگ ہمیں کیوں دوست پرانے لگتے ہیں

 آتے جاتے لوگ ہمیں کیوں دوست پرانے لگتے ہیں

چاہت کی اس حد پر یا رب ہم تو دِوانے لگتے ہے

سننے والا کوئی اگر ہوتا کہتے دل کی باتوں کو

اس کے بنا تو آج ادھورے اپنے فسانے لگتے ہیں

پھر سے بہاریں لے کر آئی مہکی ہوئی سی یادوں کو

آ بھی جاؤ، اب ملنے کے اچھے بہانے لگتے ہیں

Wednesday, 9 June 2021

درد دل سے کبھی جدا نہ ہوا

 درد دل سے کبھی جدا نہ ہوا

کوئی ہمدرد آپ سا نہ ہوا

ان کے ہمراہ تھا تمام سفر

طے مگر پھر بھی راستہ نہ ہوا

ہم بھنور میں تھے ڈوبتے ہی گئے

ناخدا تو کبھی خدا نہ ہوا