آئینہ دیکھتا رہتا ہے سنورنے والا
کون اب ہو گا یہاں پیار پہ مرنے والا
کس کی چاہت کا بھرم رکھتا ہے دل میں اپنے
تیری خاطر نہیں کوئی بھی مرنے والا
بزم سے اٹھنے سے پہلے یہ ذرا سوچ بھی لے
خواب بن جائے گا نظروں سے گزرنے والا
آئینہ دیکھتا رہتا ہے سنورنے والا
کون اب ہو گا یہاں پیار پہ مرنے والا
کس کی چاہت کا بھرم رکھتا ہے دل میں اپنے
تیری خاطر نہیں کوئی بھی مرنے والا
بزم سے اٹھنے سے پہلے یہ ذرا سوچ بھی لے
خواب بن جائے گا نظروں سے گزرنے والا
خزاں کا خوف بھی ہے موسم بہار بھی ہے
کبھی تمہارا کبھی اپنا انتظار بھی ہے
سمٹتی جاتی ہوں بڑھتی ہیں دوریاں جب بھی
عجیب شخص ہے نفرت بھی اس سے پیار بھی ہے
ہوا ہے زخمی مِرا اعتماد جس دن سے
اداس ہی نہیں دل میرا بے قرار بھی ہے
رہِ وفا میں ہمیں جتنے ہم خیال ملے
ان ہی کی آنکھوں میں ہم کو کئی سوال ملے
وہ لوگ جن کی ہمیں فکر رہتی ہے ہر دم
وہ جب کبھی بھی ملے ہم سے حسبِ حال ملے
کسی گھرانے کسی ذات سے نہیں مطلب
یہ ہم بھی جانتے ہیں دل ملے، خیال ملے
ملا تھا کوئی سرِ راہ اجنبی کی طرح
عزیز لگتا ہے جو مجھ کو زندگی کی طرح
وہ ایک شخص اندھیروں میں جس نے چھوڑ دیا
وہ اب بھی رہتا ہے آنکھوں میں روشنی کی طرح
یہ آرزو مِری برسوں کی ہے کہ آپ ملیں
فرشتہ بن کے نہیں بن کے آدمی کی طرح
آتے جاتے لوگ ہمیں کیوں دوست پرانے لگتے ہیں
چاہت کی اس حد پر یا رب ہم تو دِوانے لگتے ہے
سننے والا کوئی اگر ہوتا کہتے دل کی باتوں کو
اس کے بنا تو آج ادھورے اپنے فسانے لگتے ہیں
پھر سے بہاریں لے کر آئی مہکی ہوئی سی یادوں کو
آ بھی جاؤ، اب ملنے کے اچھے بہانے لگتے ہیں
درد دل سے کبھی جدا نہ ہوا
کوئی ہمدرد آپ سا نہ ہوا
ان کے ہمراہ تھا تمام سفر
طے مگر پھر بھی راستہ نہ ہوا
ہم بھنور میں تھے ڈوبتے ہی گئے
ناخدا تو کبھی خدا نہ ہوا