جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے
یہ تم نے کیسا یقیں دلایا، مغالطہ ختم ہو گیا ہے
زبان ہونٹوں پہ جا کے پھیکی ہی لوٹ آتی ہے کچھ دنوں سے
نمک نہیں ہے تِرے لبوں میں یا ذائقہ ختم ہو گیا ہے
گمان گاؤں سے میں چلا تھا یقین کی منزلوں کی جانب
مگر توہم کے جنگلوں میں ہی راستہ ختم ہو گیا ہے