Showing posts with label محشر آفریدی. Show all posts
Showing posts with label محشر آفریدی. Show all posts

Sunday, 20 March 2022

جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے

 جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے

یہ تم نے کیسا یقیں دلایا، مغالطہ ختم ہو گیا ہے

زبان ہونٹوں پہ جا کے پھیکی ہی لوٹ آتی ہے کچھ دنوں سے

نمک نہیں ہے تِرے لبوں میں یا ذائقہ ختم ہو گیا ہے

گمان گاؤں سے میں چلا تھا یقین کی منزلوں کی جانب

مگر توہم کے جنگلوں میں ہی راستہ ختم ہو گیا ہے

Monday, 27 July 2020

نشے کی آگ میں دیکھا گلاب یعنی تو

نشے کی آگ میں دیکھا گلاب، یعنی تُو
بدن کے جام میں دیسی شراب، یعنی تو
ہمارے لمس نے سب تار کس دئیے اس کے
وہ جھنجھنانے کو بے کل رباب، یعنی تو
ہر ایک چہرہ نظر سے چکھا ہوا دیکھا
ہر اک نظر سے اچھوتا شباب، یعنی تو

تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں

تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں
تیرا انداز بدل دوں تِرا لہجہ ہو جاؤں
تو مِرے لمس کی تاثیر سے واقف ہی نہیں
تجھ کو چھو لوں تو تِرے جسم کا حصہ ہو جاؤں
تیرے ہونٹوں کے لیے ہونٹ میرے آبِ حیات
اور کوئی جو چھوئے زہر کا پیالہ ہو جاؤں

Sunday, 26 July 2020

لب ساحل سمندر کی فراوانی سے مر جاؤں

لب ساحل سمندر کی فراوانی سے مر جاؤں
مجھے وہ پیاس ہے شاید کہ میں پانی سے مر جاؤں
تم اس کو دیکھ کر چھو کر بھی زندہ لوٹ آئے ہو
میں اس کو خواب میں دیکھوں تو حیرانی سے مر جاؤں
میں اتنا سخت جاں ہوں دم بڑی مشکل سے نکلے گا
ذرا تکلیف بڑھ جائے تو آسانی سے مر جاؤں

Saturday, 25 July 2020

تیرے ہونٹوں کے تبسم کا طلب گار ہوں میں

تیرے ہونٹوں کے تبسم کا طلبگار ہوں میں
اپنے غم بیچ دے، ردی کا خریدار ہوں میں
میری حالت پہ تکبر نہیں، افسوس بھی کر
تیرا عاشق نہیں جاناں! تِرا بیمار ہوں میں
کل تِری ہوش ربائی سے ہوا تھا آزاد
آج پھر اک نئے جادو میں گرفتار ہوں میں

تھوڑا سا بد زبان ہوں میں اتفاق سے

تھوڑا سا بد زبان ہوں میں اتفاق سے
اب کیا کروں پٹھان ہوں میں اتفاق سے
آواز سن کے آپ نے بوڑھا سمجھ لیا
لیکن ابھی جوان ہوں میں اتفاق سے
دھرتی جو میری ماں ہے اسے کیسے چھوڑ دوں
مجبور ہوں، کسان ہوں میں اتفاق سے

Wednesday, 22 July 2020

یہ سوچتا ہوں چراغوں کا اہتمام کروں

یہ سوچتا ہوں "چراغوں" کا اہتمام کروں
ہوا کو بھوک لگی ہے کچھ انتظام کروں
ہر ایک سانس رگڑ کھا رہی ہے سینہ میں
اور آپ کہتے ہیں آہوں پہ اور کام کروں
ابھی تو دل کی قیادت میں پاؤں نکلے ہیں
تلاشِ عشق رکے تو کہیں "قیام" کروں

تیری خطا نہیں جو تو غصے میں آ گیا

تیری "خطا" نہیں جو تُو "غصے" میں آ گیا
پیسے کا زور تھا تیرے "لہجے" میں آ گیا
سِکہ اچھال کے تیرے پاس میں کیا بچا
تیرا غرور تو میرے "کاسے" میں آ گیا
یوں تو بہت اداس تھا وہ مجھ سے روٹھ کر
میں نے "منانا" چاہا تو "نخرے" میں آ گیا

غم کی دولت مفت لٹا دوں بالکل نہیں

غم کی دولت مفت لٹا دوں، بالکل نہیں
اشکوں میں یہ درد بہا دوں، بالکل نہیں
تُو نے تو "اوقات" دکھا دی ہے اپنی
میں اپنا "معیار" گرا دوں، بالکل نہیں
ایک نجومی سب کو"خواب" دکھاتا ہے 
میں بھی اپنا ہاتھ دکھا دوں، بالکل نہیں 

Tuesday, 18 February 2020

انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ

انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ
مجھے زباں سے نہیں، روح سے پکار کے دیکھ
میری زمین پہ چل تیز تیز قدموں سے
پھر اس کے بعد تو جلوے مِرے غبار کے دیکھ
یہ اشک دل پہ گریں تو بہت چمکتے ہیں
کبھی یہ آئینہ تیزاب سے نکھار کے دیکھ

خود کو اتنا بھی مت ستایا کر

خود کو اتنا بھی مت ستایا کر
خواہشیں ہوں تو پھر بتایا کر
تجھ پہ سنجیدگی نہیں جچتی
وجہ بے وجہ مسکرایا کر
آئینہ بے زبان ہوتا ہے
سج سنور کے مجھے دکھایا کر

عشق میں دان کرنا پڑتا ہے

عشق میں دان کرنا پڑتا ہے
جاں کو ہلکان کرنا پڑتا ہے
تجربہ مفت میں نہیں ملتا
پہلے نقصان کرنا پڑتا ہے
اس کی بے لفظ گفتگو کے لیے
آنکھ کو "کان" کرنا پڑتا ہے