تھوڑا سا بد زبان ہوں میں اتفاق سے
اب کیا کروں پٹھان ہوں میں اتفاق سے
آواز سن کے آپ نے بوڑھا سمجھ لیا
لیکن ابھی جوان ہوں میں اتفاق سے
دھرتی جو میری ماں ہے اسے کیسے چھوڑ دوں
وہ تیر جس پہ تم کو بہت ناز ہے میاں
اس تیر کی کمان ہوں میں اتفاق سے
اظہار عشق تم نے ذرا دیر سے کیا
اب تو کسی کی جان ہوں میں اتفاق سے
محشر آفریدی
No comments:
Post a Comment