Saturday, 25 July 2020

تھوڑا سا بد زبان ہوں میں اتفاق سے

تھوڑا سا بد زبان ہوں میں اتفاق سے
اب کیا کروں پٹھان ہوں میں اتفاق سے
آواز سن کے آپ نے بوڑھا سمجھ لیا
لیکن ابھی جوان ہوں میں اتفاق سے
دھرتی جو میری ماں ہے اسے کیسے چھوڑ دوں
مجبور ہوں، کسان ہوں میں اتفاق سے
وہ تیر جس پہ تم کو بہت ناز ہے میاں
اس تیر کی کمان ہوں میں اتفاق سے
اظہار عشق تم نے ذرا دیر سے کیا
اب تو کسی کی جان ہوں میں اتفاق سے

محشر آفریدی

No comments:

Post a Comment