عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے
تمہارا نقشِ کفِ پا دکھائی دیتا ہے
یہ سارا عالمِ امکاں تمہارے سامنے ہے
تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے
عروج سرحد روح الامیں سے بھی آگے
بُراق آپﷺ کا بڑھتا دکھائی دیتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے
تمہارا نقشِ کفِ پا دکھائی دیتا ہے
یہ سارا عالمِ امکاں تمہارے سامنے ہے
تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے
عروج سرحد روح الامیں سے بھی آگے
بُراق آپﷺ کا بڑھتا دکھائی دیتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
راہوں میں تِری طُور کے آثار ملے ہیں
ذروں کے جگر مطلعِ انوار ملے ہیں
تاروں میں تِرے حسنِ تبسم کی ضیا ہے
پھولوں کی مہک میں تِرے آثار ملے ہیں
معراج کی شب سرحدِ امکاں سے بھی آگے
💚نقشِ قدمِ احمدؐ مختارﷺ ملے ہیں💚
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مری تشنہ لبی کی خیر، ہو گا لُطفِ عام انﷺ کا
کہ بزم ان کی، شراب ان کی ، صراحی ان کی، جام ان کا
حرم سے لامکاں تک اُنﷺ کے نقشِ پا چمکتے ہیں
کہ ہے کونین پر سایہ فگن حُسنِ خرام ان کا
زمانے نے ہزاروں ٹھوکروں کے بعد سمجھا ہے
علاجِ ظلمت ایام ہے بے شک نظام ان کا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تجھ سے ہے بہارِ جانِ عالمؐ
اے چارۂ بے کسانِ عالمؐ
تُوؐ اصلِ بِنائے خلق ٹھہرا
تُوؐ عز و وقار و شانِ عالمؐ
سدرہ تِرے خادموں کا مسکن
اے خواجۂ خواجگانِ عالمِ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہﷺ آ گئے ہیں تو زندگی کا نظام آسان ہو گیا ہے
انہیؐ کے صدقے میں آدمی آپ اپنی پہچان ہو گیا ہے
جو انؐ کی سیرت میں ڈھل گیا ہے دلیل و برہان ہو گیا ہے
علیؓ و عثمانؓ بن گیا ہے، بلالؓ و سلمانؓ ہو گیا ہے
برس گئے ہیں وہ زندگی پر حقیقتوں کا سحاب بن کر
ہم اپنی ہستی سمجھ گئے ہیں خدا کا عرفان ہو گیا ہے
سلام بر مولود کعبہ مولا علیؑ شیر خدا
سلام اس پر کہ کعبہ میں ولادت کا شرف پایا
جو بچپن ہی سے آغوشِ محمدﷺ میں چلا آیا
سلام اس پر جو شہزادہ ہے یوم ذوالعشیرہ کا
وہی اس وقت سارے پتھروں میں ایک ہیرا تھا
شبِ ہجرت نبیﷺ کے پاک بستر پر وہ سویا تھا
نبیؐ کا عشق جس نے اپنی رگ رگ میں سمویا تھا
عارفانہ کلام منقبت سلام بر رفیق نبی ابوبکر صدیقؓ
سلام اس پر نبوتؐ نے جسے صدیقؓ فرمایا
شرف جس نے یہاں معراج کی تصدیق کا پایا
سلام اس پر کہ جس نے سبقتِ ایماں بھی پائی ہے
اس عزت کے لیے تقدیر جس کو چن کے لائی ہے
سلام اس پر جو اک تاریخ ہے حسنِ عزیمت کی
سلام اس پر جو اک تابندہ سیرت ہے حمیت کی
وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا
ہر چیز ہی بسمل تھی، کل رات جہاں میں تھا
کس شان کی محفل تھی، کل رات جہاں میں تھا
کونین کا حاصل تھی، کل رات جہاں میں تھا
ذروں کی جبینوں پر تاروں کا گماں گزرا
ہر شے مہِ کامل تھی، کل رات جہاں میں تھا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
صبا خیال سے رکھنا قدم مدینے میں
ہے ذرّہ ذرّہ چراغِ حرم مدینے میں
ہوا میں آپؐ کی خوشبو، فضا میں آپؐ کا رنگ
جہانِ عشق کا بیت الحرم مدینے میں
ہے قُربِ ساقئ کوثرﷺ کی سلسبیل رواں
مہک رہی ہے فضائے ارم مدینے میں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
راہوں میں تِری طُور کے آثار ملے ہیں
ذروں کے جگر مطلعِ انوار ملے ہیں
تاروں میں تِرے حسنِ تبسم کی ضیاء ہے
پھولوں کی مہک میں تِرے آثار ملے ہیں
معراج کی شب سرحدِ امکاں سے بھی آگے
نقشِِ قدمِ احمدﷺ مختار ملے ہیں