Showing posts with label سرو سہارنپوری. Show all posts
Showing posts with label سرو سہارنپوری. Show all posts

Tuesday, 7 December 2021

جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے

تمہارا نقشِ کفِ پا دکھائی دیتا ہے

یہ سارا عالمِ امکاں تمہارے سامنے ہے

تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے

عروج سرحد روح الامیں سے بھی آگے

بُراق آپﷺ کا بڑھتا دکھائی دیتا ہے

Sunday, 5 December 2021

راہوں میں تری طور کے آثار ملے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


راہوں میں تِری طُور کے آثار ملے ہیں

ذروں کے جگر مطلعِ انوار ملے ہیں

تاروں میں تِرے حسنِ تبسم کی ضیا ہے

پھولوں کی مہک میں تِرے آثار ملے ہیں

معراج کی شب سرحدِ امکاں سے بھی آگے

💚نقشِ قدمِ احمدؐ مختارﷺ ملے ہیں💚

Saturday, 4 December 2021

مری تشنہ لبی کی خیر ہو گا لطف عام ان کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مری تشنہ لبی کی خیر، ہو گا لُطفِ عام انﷺ کا​

کہ بزم ان کی، شراب ان کی ، صراحی ان کی، جام ان کا​

حرم سے لامکاں تک اُنﷺ کے نقشِ پا چمکتے ہیں​

کہ ہے کونین پر سایہ فگن حُسنِ خرام ان کا​

زمانے نے ہزاروں ٹھوکروں کے بعد سمجھا ہے​

علاجِ ظلمت ایام ہے بے شک نظام ان کا

Thursday, 2 December 2021

تجھ سے ہے بہار جان عالم

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تجھ سے ہے بہارِ جانِ عالمؐ​

اے چارۂ بے کسانِ عالمؐ​

تُوؐ اصلِ بِنائے خلق ٹھہرا​

تُوؐ عز و وقار و شانِ عالمؐ​

سدرہ تِرے خادموں کا مسکن​

اے خواجۂ خواجگانِ عالمِ

وہ آ گئے ہیں تو زندگی کا نظام آسان ہو گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وہﷺ آ گئے ہیں تو زندگی کا نظام آسان ہو گیا ہے

انہیؐ کے صدقے میں آدمی آپ اپنی پہچان ہو گیا ہے

جو انؐ کی سیرت میں ڈھل گیا ہے دلیل و برہان ہو گیا ہے

علیؓ و عثمانؓ بن گیا ہے، بلالؓ و سلمانؓ ہو گیا ہے

برس گئے ہیں وہ زندگی پر حقیقتوں کا سحاب بن کر

ہم اپنی ہستی سمجھ گئے ہیں خدا کا عرفان ہو گیا ہے

Wednesday, 1 December 2021

سلام اس پر کہ کعبہ میں ولادت کا شرف پایا

 سلام بر مولود کعبہ مولا علیؑ شیر خدا


سلام اس پر کہ کعبہ میں ولادت کا شرف پایا

جو بچپن ہی سے آغوشِ محمدﷺ میں چلا آیا

سلام اس پر جو شہزادہ ہے یوم ذوالعشیرہ کا

وہی اس وقت سارے پتھروں میں ایک ہیرا تھا

شبِ ہجرت نبیﷺ کے پاک بستر پر وہ سویا تھا

نبیؐ کا عشق جس نے اپنی رگ رگ میں سمویا تھا

Tuesday, 30 November 2021

سلام اس پر نبوت نے جسے صدیق فرمایا

 عارفانہ کلام منقبت سلام بر رفیق نبی ابوبکر صدیقؓ


سلام اس پر نبوتؐ نے جسے صدیقؓ فرمایا​

شرف جس نے یہاں معراج کی تصدیق کا پایا​

سلام اس پر کہ جس نے سبقتِ ایماں بھی پائی ہے​

اس عزت کے لیے تقدیر جس کو چن کے لائی ہے​

سلام اس پر جو اک تاریخ ہے حسنِ عزیمت کی​

سلام اس پر جو اک تابندہ سیرت ہے حمیت کی

وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا

 وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا

ہر چیز ہی بسمل تھی، کل رات جہاں میں تھا

کس شان کی محفل تھی، کل رات جہاں میں تھا

کونین کا حاصل تھی، کل رات جہاں میں تھا

ذروں کی جبینوں پر تاروں کا گماں گزرا

ہر شے مہِ کامل تھی، کل رات جہاں میں تھا

صبا خیال سے رکھنا قدم مدینے میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


صبا خیال سے رکھنا قدم مدینے میں

ہے ذرّہ ذرّہ چراغِ حرم مدینے میں

ہوا میں آپؐ کی خوشبو، فضا میں آپؐ کا رنگ

جہانِ عشق کا بیت الحرم مدینے میں

ہے قُربِ ساقئ کوثرﷺ کی سلسبیل رواں

مہک رہی ہے فضائے ارم مدینے میں

Wednesday, 28 July 2021

راہوں میں تری طور کے آثار ملے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


راہوں میں تِری طُور کے آثار ملے ہیں

ذروں کے جگر مطلعِ انوار ملے ہیں

تاروں میں تِرے حسنِ تبسم کی ضیاء ہے

پھولوں کی مہک میں تِرے آثار ملے ہیں

معراج کی شب سرحدِ امکاں سے بھی آگے

نقشِِ قدمِ احمدﷺ مختار ملے ہیں