Saturday, 4 December 2021

مری تشنہ لبی کی خیر ہو گا لطف عام ان کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مری تشنہ لبی کی خیر، ہو گا لُطفِ عام انﷺ کا​

کہ بزم ان کی، شراب ان کی ، صراحی ان کی، جام ان کا​

حرم سے لامکاں تک اُنﷺ کے نقشِ پا چمکتے ہیں​

کہ ہے کونین پر سایہ فگن حُسنِ خرام ان کا​

زمانے نے ہزاروں ٹھوکروں کے بعد سمجھا ہے​

علاجِ ظلمت ایام ہے بے شک نظام ان کا

​جنہیں طیبہ کے جنت زار میں بسنا میسر ہو​

حقیقت میں نماز ان کی، سجود ان کا، قیام ان کا​

سنہری جالیوں کو جا کے جو چومے نظر وہ ہے​

تِری گلیوں کی خوشبو جن کو مل جائے مشام ان کا​

مدینے جا کے جن کی زندگی کی شام ہو جائے​

مبارک ابتدا اُن کی،۔ مبارک اختتام ان کا​

مبارک ہو مدینے سے بلاوہ آ گیا جن کو​

سُوئے جنت چلا ہے قافلہ اب گام گام ان کا​

میں اپنی آرزو کا ماحصل اب یہ سمجھتا ہوں​

ہے جب تک تابِ گویائی رہے ہونٹوں پہ نام ان کا​

اگرچہ عالمِ اسباب میں کچھ بھی نہیں اپنا​

مگر ڈھارس بندھائے ہے ابھی تک لطفِ عام ان کا​

نہ جانے کب سےاس امید میں پلکیں نہیں جھپکیں​

کہ بادِ صبح گاہی لے کے آئے گی پیام ان کا​

سمجھتا ہوں کہ اُن کے پیار کی دولت بڑی شے ہے​

شہنشاہی کو کب خاطر میں لاتا ہے غلام ان کا​


سرو سہارنپوری​

No comments:

Post a Comment