بے خبری کی آغوش
انہیں سردی نہیں لگتی
انہیں ذِلّت کی ساعت نے پرانے سیم نالوں کے
کناروں پر گھسیٹا ہے
اور ان کے کالے ہونٹوں پر
لگی ہے مُہر صدیوں سے
یہ کلّر تھور دھرتی میں
بے خبری کی آغوش
انہیں سردی نہیں لگتی
انہیں ذِلّت کی ساعت نے پرانے سیم نالوں کے
کناروں پر گھسیٹا ہے
اور ان کے کالے ہونٹوں پر
لگی ہے مُہر صدیوں سے
یہ کلّر تھور دھرتی میں
تمہاری شکل مرے آئینے میں پڑتی ہے
یہ زندگی تو یونہی راستے میں پڑتی ہے
میں دن میں جھیلتا ہوں جون کو دسمبر میں
مگر یہ شام مجھے ملگجے میں پڑتی ہے
مِرے ہی پاؤں تلے آ گئی مِری آنکھیں
دِیے کی لَو تو فقط طاقچے میں پڑتی ہے
جیون راگ
ہم خواب بنیں ان آنکھوں کے
جو تارِ بدن کو چُھو لیں تو
خواہش کی سیما سے آگے
سُر سنگم کے دربار لگیں
اور درباری کی لے اندر
فوڈ فیسٹیول
اپنے دیس کے پکھنو اکثر اُڑ جاتے ہیں
سات سمندر پار
سندیسے کب آتے ہیں؟
آنکھیں دیواروں میں چُن کر
سانس کی رتھ کو کتنا کھینچیں
جیون کس پاتال میں ڈھونڈیں
احساس کی منڈیر پر رکھی نظم
فرصت ہی نہیں ملتی
ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں
یادوں کی کوئی کھڑکی
کھولیں تو ہوا مہکے
سینے کا پرندہ بھی نظموں میں کہیں چہکے
مجھے انٹِیک مت سمجھو
کبھی وہ دن تھے
کہ شوخ آنکھوں کے سرخ ڈورے
گلاس بھر بھر شرارتوں کے اُنڈیلتے تھے
وہ اتنا ہنستے
کھنک سے ان کی
ممکنات سے مکالمہ
اپنے رومال میں روٹیاں باندھ کر
گاؤں سے ہم چلے
راستے میں کہیں قافلے لُٹ گئے
روڑیوں پر پڑی رات رونے لگی
نیند پلکوں پہ تھی سو وہیں سو گئی
منقسم سانسوں کی بِپتا
سیہ کاغذوں پر پرندوں کی قبریں بناتے ہوئے
تم نے دیکھا تو ہو گا
کہ سب اُتروں، دَکھنوں، پُوربوں، پَچھموں پھرنے والی ہوا
وصل کے گیت گاتے ہوئے
سب پرندوں سے اٹھکیلیاں کرنے والی ہوا