Showing posts with label ارشد معراج. Show all posts
Showing posts with label ارشد معراج. Show all posts

Saturday, 23 March 2024

بے خبری کی آغوش انہیں سردی نہیں لگتی

 بے خبری کی آغوش


انہیں سردی نہیں لگتی

انہیں ذِلّت کی ساعت نے پرانے سیم نالوں کے

کناروں پر گھسیٹا ہے

اور ان کے کالے ہونٹوں پر

لگی ہے مُہر صدیوں سے

یہ کلّر تھور دھرتی میں

Wednesday, 13 March 2024

تمہاری شکل مرے آئنے میں پڑتی ہے

تمہاری شکل مرے آئینے میں پڑتی ہے 

یہ زندگی تو یونہی راستے میں پڑتی ہے

میں دن میں جھیلتا ہوں جون کو دسمبر میں

مگر یہ شام مجھے ملگجے میں پڑتی ہے

مِرے ہی پاؤں تلے آ گئی مِری آنکھیں 

دِیے کی لَو تو فقط طاقچے میں پڑتی ہے 

Thursday, 30 December 2021

جیون راگ ہم خواب بنیں ان آنکھوں کے

 جیون راگ


ہم خواب بنیں ان آنکھوں کے

جو تارِ بدن کو چُھو لیں تو

خواہش کی سیما سے آگے

سُر سنگم کے دربار لگیں

اور درباری کی لے اندر

Monday, 26 April 2021

اپنے دیس کے پکھنو اکثر اڑ جاتے ہیں

 فوڈ فیسٹیول


اپنے دیس کے پکھنو اکثر اُڑ جاتے ہیں

سات سمندر پار

سندیسے کب آتے ہیں؟

آنکھیں دیواروں میں چُن کر

سانس کی رتھ کو کتنا کھینچیں

جیون کس پاتال میں ڈھونڈیں

Thursday, 22 April 2021

فرصت ہی نہیں ملتی ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں

 احساس کی منڈیر پر رکھی نظم


فرصت ہی نہیں ملتی

ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں

یادوں کی کوئی کھڑکی

کھولیں تو ہوا مہکے

سینے کا پرندہ بھی نظموں میں کہیں چہکے

Tuesday, 20 April 2021

مجھے انٹیک مت سمجھو

مجھے انٹِیک مت سمجھو 


کبھی وہ دن تھے 

کہ شوخ آنکھوں کے سرخ ڈورے 

گلاس بھر بھر شرارتوں کے اُنڈیلتے تھے 

وہ اتنا ہنستے 

کھنک سے ان کی 

Monday, 19 April 2021

اپنے رومال میں روٹیاں باندھ کر گاؤں سے ہم چلے

 ممکنات سے مکالمہ


اپنے رومال میں روٹیاں باندھ کر

گاؤں سے ہم چلے

راستے میں کہیں قافلے لُٹ گئے

روڑیوں پر پڑی رات رونے لگی

نیند پلکوں پہ تھی سو وہیں سو گئی

سیہ کاغذوں پر پرندوں کی قبریں بناتے ہوئے

 منقسم سانسوں کی بِپتا​


سیہ کاغذوں پر پرندوں کی قبریں بناتے ہوئے

تم نے دیکھا تو ہو گا

کہ سب اُتروں، دَکھنوں، پُوربوں، پَچھموں پھرنے والی ہوا

وصل کے گیت گاتے ہوئے

سب پرندوں سے اٹھکیلیاں کرنے والی ہوا