Friday, 16 October 2026

شکوے کی چبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

 شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے

خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا

پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے

لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے

اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے

محفل میں شناسا بھی بنا بیٹھا ہے انجان

اس شخص کی مجبور وفا اچھی لگی ہے

نکلے گا اسی پردے سے تپتا ہوا سُورج

یہ سوچ کے ہی کالی گھٹا اچھی لگی ہے

تُو بند کیے کان جو سُنتی ہے سبھوں کی

سچ مچ یہ صدف تیری ادا اچھی لگی ہے


صدف جعفری

No comments:

Post a Comment