Showing posts with label اسد جعفری. Show all posts
Showing posts with label اسد جعفری. Show all posts

Friday, 11 March 2022

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

 ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں

کروں میں خونِ تمنا کا کس لیے ماتم

مِرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں

میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں

اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں

Saturday, 25 December 2021

ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے

  ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے

اک سکوت بے کراں ہر سمت بازاروں میں ہے

نوبتِ قحطِ مسیحائی یہاں تک آ گئی

کچھ دنوں سے آرزوئے مرگ بیماروں میں ہے

وہ بھی کیا دن تھے کہ جب ہر وصف اک اعزاز تھا

آج تو عظمت قباؤں اور دستاروں میں ہے

Thursday, 9 December 2021

جاؤں کہاں شعور ہنر کس کے پاس ہے

 جاؤں کہاں، شعور ہنر کس کے پاس ہےِ

آنکھیں ہیں سب کے پاس نظر کس کے پاس ہے

حدِ نظر میں منزلِ مقصود ہے، مگر

جائے گا کون رختِ سفر کس کے پاس ہے

زخموں میں ہو رہے ہیں اضافے نئے نئے

لیکن نہیں خبر کہ تبر کس کے پاس ہے

Wednesday, 8 December 2021

اے مرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر

 مشورہ


آتش بے سود میں مت کود ہو کر بے خطر

مت گنوا یوں مفت میں آزادئ قلب و جگر

جب تِری قسمت میں بنگلہ ہے نہ گاڑی ہے نہ زر

خانہ آبادی کا پھر یہ کیوں تردد اس قدر

آرزو تیری بجا میری نصیحت ہے مگر

اے مِرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر

Friday, 3 September 2021

خیال یار مجھے جب لہو رلانے لگا

 خیالِ یار مجھے جب لہو رلانے لگا

تو زخم زخم مِرے دل کا مسکرانے لگا

مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں

میں کیوں تمہاری محبت کو آزمانے لگا

کیا ہے یاد مجھے میرے بعد دنیا نے

ہوا جو غرق تو ساحل قریب آنے لگا