ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں
کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں
کروں میں خونِ تمنا کا کس لیے ماتم
مِرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں
میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں
اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں
ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں
کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں
کروں میں خونِ تمنا کا کس لیے ماتم
مِرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں
میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں
اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں
ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے
اک سکوت بے کراں ہر سمت بازاروں میں ہے
نوبتِ قحطِ مسیحائی یہاں تک آ گئی
کچھ دنوں سے آرزوئے مرگ بیماروں میں ہے
وہ بھی کیا دن تھے کہ جب ہر وصف اک اعزاز تھا
آج تو عظمت قباؤں اور دستاروں میں ہے
جاؤں کہاں، شعور ہنر کس کے پاس ہےِ
آنکھیں ہیں سب کے پاس نظر کس کے پاس ہے
حدِ نظر میں منزلِ مقصود ہے، مگر
جائے گا کون رختِ سفر کس کے پاس ہے
زخموں میں ہو رہے ہیں اضافے نئے نئے
لیکن نہیں خبر کہ تبر کس کے پاس ہے
مشورہ
آتش بے سود میں مت کود ہو کر بے خطر
مت گنوا یوں مفت میں آزادئ قلب و جگر
جب تِری قسمت میں بنگلہ ہے نہ گاڑی ہے نہ زر
خانہ آبادی کا پھر یہ کیوں تردد اس قدر
آرزو تیری بجا میری نصیحت ہے مگر
اے مِرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر
خیالِ یار مجھے جب لہو رلانے لگا
تو زخم زخم مِرے دل کا مسکرانے لگا
مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں
میں کیوں تمہاری محبت کو آزمانے لگا
کیا ہے یاد مجھے میرے بعد دنیا نے
ہوا جو غرق تو ساحل قریب آنے لگا