Showing posts with label حمزہ شاہ. Show all posts
Showing posts with label حمزہ شاہ. Show all posts

Saturday, 13 June 2026

روشن تھی دل کی ہر کلی اور چار سو سفید تھے

 دُنیائے حُسن و عشق کے سب رنگ و بُو سفید تھے

اس مے کدے کے بام و در، جام و سبُو سفید تھے

ہم نے تو اپنے خُون سے لکھی وفا کی داستاں

ان کو سمجھ نہ آ سکی جن کے لہُو سفید تھے

آنکھیں جو محوِ خواب تھیں تیرے سیاہ پوش کی

شب تھی، کہ تیرے شہر کے سب کُوبُکو سفید تھے

Tuesday, 28 October 2025

میرے گھر کے بام و در بھی مجھ سے تیرا پوچھتے ہیں

 میرے گھر کے  بام و در بھی مجھ سے تیرا پُوچھتے ہیں

شہر کے شام و سحر بھی مجھ سے تیرا پوچھتے ہیں

کیا بتاؤں لوٹ آیا ہوں تِرے کوچے سے یوں

رکھے جو دل پر حجر بھی مجھ سے تیرا پوچھتے ہیں

تُو ہی کہہ دے کیا بتاؤں ان کو میں تیرا پتہ؟

جو نہیں تھے با خبر وہ بھی مجھ سے تیرا پوچھتے ہیں

Friday, 23 August 2024

محبتوں کا سفر کاش پھر دوبارہ ہو

 محبتوں کا سفر کاش پھر دوبارہ ہو

ہو دل کے پاس کوئی اور غم کا چارہ ہو

کوئی تو ہو جو غم زندگی سمجھ پائے

کوئی تو ہو جو مِری زیست کا سہارا ہو

یہی دعا ہے کہ اللہ ہی صبر دے اس کو

کہ میری طرح کہیں جو بھی غم کا مارا ہو

Thursday, 22 August 2024

نوجوانو بات ہے جرأت کی تم سوئے رہو

 نوجوانو! بات ہے جرأت کی، تم سوئے رہو

کیا ضرورت ہے تمہیں ہمت کی، تم سوئے رہو

دیکھ لو تم کس طرح اغیار کے ہاتھوں سے بس

لٹ رہی ہے آبرو ملت کی، تم سوئے رہو

واعظانِ قوم! بس محراب و منبر کے سوا

کچھ خبر تم کو نہیں اُمت کی، تم سوئے رہو