Showing posts with label نوید مرزا. Show all posts
Showing posts with label نوید مرزا. Show all posts

Thursday, 6 July 2023

کرم کی بھیک ہو شاہ غریباں یا رسول اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


کرم کی بھیک ہو شاہ غریباں یا رسول اللہﷺ

کئی برسوں سے بیٹھا ہوں پریشاں یا رسول اللہﷺ

نظر آنے لگی مجھے دنیا بے نور جانے کیوں

مِرے بھی شہر میں ہو اب چراغاں یا رسول اللہﷺ

سمجھ نہیں آتی جاؤں کہاں میں اس خسارے میں

زمین و آسماں مجھ سے گریزاں یا رسول اللہﷺ

Thursday, 8 June 2023

تباہی سے ہوئی ہے اس قدر دو چار یہ دنیا

 تباہی سے ہوئی ہے اس قدر دو چار یہ دنیا

بنانے سے نہ بن پائے گی اگلی بار یہ دنیا

مصور نے تو سطح آب سے مٹی اٹھائی تھی

مٹاتی جا رہی ہے اس کے سب شاہکار یہ دنیا

اسے کیا وقت کے اندھے کنویں سے ہم نکالیں گے

نہ جانے کون سی حالت میں ہو اس پار یہ دنیا

Thursday, 13 April 2023

خدا کا شکر کر جیسا بھی اور جس حال میں رکھے

 خدا کا شکر کر جیسا بھی اور جس حال میں رکھے

کہیں ایسا نہ ہو قدرت تجھے بھونچال میں رکھے

بنا کر خاک سے کب خاک سا رہنے دیا مجھ کو

ہنر اس نے ہزاروں میرے خد و خال میں رکھے

شکاری پر رہائی کے معانی تک نہیں کھلتے

خدا جانے پرندوں کو وہ کب تک جال میں رکھے

Friday, 9 September 2022

جب سے میں ہوں ترے خیال میں گم

 جب سے میں ہوں تِرے خیال میں گم

اک اُجالا ہے خد و خال میں گُم

راستے گرد گرد ہیں جب سے

ہر مسافر ہے اک وبال میں گم

خود بخود رہگزر بناتا ہے

ہر پرندہ ہوا کے جال میں گم

Friday, 12 August 2022

کار دنیا میں فرشتوں کی طرح ہوتا ہے

 کارِ دنیا میں فرشتوں کی طرح ہوتا ہے

’’آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے‘‘

اس کے منزل کی طرف خود ہی قدم اٹھتے ہیں

جب کوئی شہر کے رستوں کی طرح ہوتا ہے

جس کے لہجے سے محبت کی مہک آتی ہو

گفتگو میں وہ گلابوں کی طرح ہوتا ہے

Wednesday, 3 August 2022

زبان دل کی حکایت بیان تک پہنچی

 زبانِ دل کی حکایت بیان تک پہنچی

زمیں سے اُڑتی ہوئی آسمان تک پہنچی

سراغ سامنے آئے گا دُشمنِ جاں کا

جو میرے پاؤں کی آہٹ مچان تک پہنچی

وہ ایک بات جو صدیوں کی گرد میں تھی نہاں

سوال بن کے مِرے امتحان تک پہنچی

Tuesday, 2 August 2022

کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آہستہ

 کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آہستہ

ہوئی سارے زمانے کی خبر آہستہ آہستہ

ہمیشہ کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے

زمیں محور سے ہٹتی ہے مگر آہستہ آہستہ

کسی آہٹ سے کب کوئی مکاں مسمار ہوتا ہے

چٹخ کر ٹوٹتے ہیں بام و در آہستہ آہستہ

Monday, 1 August 2022

فرق کیا ہے اب یزید و شمر میں

 جستجو کو ہم جگا کر ہجر میں

تجھ کو ڈھونڈیں گے دیارِ فکر میں

جب زلیخا کی نظر ملتی نہیں

کیسے بکنے جاؤں میں اب مصر میں

جس کو آنکھوں نے کبھی دیکھا نہیں

عمر گزری ہے اسی کے ذکر میں