جب سے میں ہوں تِرے خیال میں گم
اک اُجالا ہے خد و خال میں گُم
راستے گرد گرد ہیں جب سے
ہر مسافر ہے اک وبال میں گم
خود بخود رہگزر بناتا ہے
ہر پرندہ ہوا کے جال میں گم
سن رہا ہوں صدا قلندر کی
ہو رہا ہوں کسی دھمال میں گم
کون اب اُس کا انتظار کرے
کوئی کب تک رہے ملال میں گم
ماوراء ہے تُو ہر تخیل سے
روشنی ہے تِرے جمال میں گُم
نقش سب کے بنا رہا ہے وہی
میں بھی ہوں دست لازوال میں گم
جب گزشتہ تلاش کرتا ہوں
ہونے لگتا ہوں اپنے حال میں گم
نوید مرزا
No comments:
Post a Comment