جھوٹ کی اب تجارت یہاں عام ہے
ہم پہ سچ بولنے کا ہی الزام ہے
شاعری بس تخیل کا ہی کام ہے
کون کہتا ہے یہ ایک الہام ہے
بِن پیے اک نشہ سا ہُوا ہے مجھے
یہ تِری آنکھیں ہیں یا کوئی جام ہے
جھوٹ کی اب تجارت یہاں عام ہے
ہم پہ سچ بولنے کا ہی الزام ہے
شاعری بس تخیل کا ہی کام ہے
کون کہتا ہے یہ ایک الہام ہے
بِن پیے اک نشہ سا ہُوا ہے مجھے
یہ تِری آنکھیں ہیں یا کوئی جام ہے
نیند آنکھوں سے جاتی رہی رات بھر
وہ مِرا دل جلاتی رہی رات بھر
میرے دل کے دریچے پہ وہ بیٹھ کر
یوں مِرا دل دُکھاتی رہی رات بھر
چاند نی بھی دریچے سے آتی رہی
یاد تیری دلاتی رہی رات بھر
بدن میں چبھن اور دل جل رہا ہے
کہ سینے میں کوئی ستم پل رہا ہے
نہیں شے کو حاصل زمانے میں دائم
تغیّر جہاں میں مسلسل رہا ہے
چلو گھر چلیں ہم کہ اب رات آئی
جوانی کا سورج بھی اب ڈھل رہا ہے
انصاف
گر ظلم ہے کوئی وہ مٹا کیوں نہیں دیتے
ظالم کی یوں تم نیند اڑا کیوں نہیں دیتے
تجھ میں ہے اگر جوش دکھا کیوں نہیں دیتے
یہ طوق غلامی کا جلا کیوں نہیں دیتے
قاتل کو جو تم اس کی سزا کیوں نہیں دیتے
مقتول کو انصاف دلا کیوں نہیں دیتے
یہ دل مِرا بجھا بجھا سا لگ رہا ہے آج کل
یوں آسماں جلا ہوا سا لگ رہا ہے آج کل
جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا سایہ سا کبھی
نہ جانے کیوں جدا جدا سا لگ رہا ہے آج کل
کروں بیاں یوں کیسے حال اپنی بستی کا یہاں
کہ ہر کوئی تھکا تھکا سا لگ رہا ہے آج کل
لوگوں سے واسطہ کہاں ہے
ہم سے کوئی آشنا کہاں ہے
جس کی ہمیں جستجو رہی تھی
گلشن میں وہ گل کھلا کہاں ہے
مجھ پر مختاری کا ہے الزام
سب تیرا ہے، مِرا کہاں ہے
یہ گردشیں یہ الم اور یہ خوشی کیا ہے
بغیر ان کے ہماری یہ زندگی کیا ہے
نہ ہو خیال جسے دوستی میں دوستی کا
بلا وہ دوستی کیا اور وہ آدمی کیا ہے
جنوں نہ ہو تِری الفت میں قیس جیسا گر
یہ حسن کیا ہے تِرا، میری عاشقی کیا ہے
وہ بے وفا ہمیشہ سے عادی دغا کا تھا
لیکن مِرے خمیر میں عنصر وفا کا تھا
اک ہم نہیں تھے اس کے طلبگار شہر میں
عاشق امیرِ شہر بھی قاتل ادا کا تھا
دنیا کے حادثات میرا کیا بگاڑتے
ہر پل میرے وجود پہ سایہ خدا کا تھا
جب کبھی چہرے سے وہ پردہ اُٹھا دیتے ہیں
پھول بھی اپنی نگاہوں کو جھکا دیتے ہیں
اُجڑے گلشن میں ہم پھول کھلا دیتے ہیں
دشت و صحرا کو بھی گلزار بنا دیتے ہیں
ہم اگر سوئے ہیں تو خیر منا اپنی تُو
ہوش میں آتے ہیں تو حشر اُٹھا دیتے ہیں
وہ ہم سے خفا رہتے ہیں اور ان سے خفا ہم
لیکن کبھی رہتے نہیں ہیں دل سے جدا ہم
وہ ہم کو ستاتے ہیں، کبھی ہم بھی ستاتے
اک دوسرے پر دل سے مگر سچ میں فدا ہم
جیسے کوئی بجلی گرے اس دل پہ ہمارے
چھپ چھپ کے اسے دیکھتے ہیں جب بخدا ہم