Showing posts with label اشہر اشرف. Show all posts
Showing posts with label اشہر اشرف. Show all posts

Saturday, 27 January 2024

جھوٹ کی اب تجارت یہاں عام ہے

 جھوٹ کی اب تجارت یہاں عام ہے  

ہم پہ سچ بولنے کا ہی الزام ہے 

شاعری بس تخیل کا ہی کام ہے

کون کہتا ہے یہ ایک الہام ہے  

بِن پیے اک نشہ سا ہُوا ہے مجھے 

یہ تِری آنکھیں ہیں یا کوئی جام ہے 

Monday, 27 February 2023

نیند آنکھوں سے جاتی رہی رات بھر

 نیند آنکھوں سے جاتی رہی رات بھر

وہ مِرا دل جلاتی رہی رات بھر

میرے دل کے دریچے پہ وہ بیٹھ کر

یوں مِرا دل دُکھاتی رہی رات بھر

چاند نی بھی دریچے سے آتی رہی

یاد تیری دلاتی رہی رات بھر

Sunday, 1 January 2023

بدن میں چبھن اور دل جل رہا ہے

 بدن میں چبھن اور دل جل رہا ہے

کہ سینے میں کوئی ستم پل رہا ہے

نہیں شے کو حاصل زمانے میں دائم

تغیّر جہاں میں مسلسل رہا ہے

چلو گھر چلیں ہم کہ اب رات آئی

جوانی کا سورج بھی اب ڈھل رہا ہے

Monday, 26 December 2022

گر ظلم ہے کوئی وہ مٹا کیوں نہیں دیتے

 انصاف


گر ظلم ہے کوئی وہ مٹا کیوں نہیں دیتے

ظالم کی یوں تم نیند اڑا کیوں نہیں دیتے

تجھ میں ہے اگر جوش دکھا کیوں نہیں دیتے

یہ طوق غلامی کا جلا کیوں نہیں دیتے

قاتل کو جو تم اس کی سزا کیوں نہیں دیتے

مقتول کو انصاف دلا کیوں نہیں دیتے

Saturday, 5 November 2022

یہ دل مرا بجھا بجھا سا لگ رہا ہے آج کل

 یہ دل مِرا بجھا بجھا سا لگ رہا ہے آج کل

یوں آسماں جلا ہوا سا لگ رہا ہے آج کل

جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا سایہ سا کبھی

نہ جانے کیوں جدا جدا سا لگ رہا ہے آج کل

کروں بیاں یوں کیسے حال اپنی بستی کا یہاں

کہ ہر کوئی تھکا تھکا سا لگ رہا ہے آج کل

Wednesday, 27 July 2022

لوگوں سے واسطہ کہاں ہے

 لوگوں سے واسطہ کہاں ہے

ہم سے کوئی آشنا کہاں ہے

جس کی ہمیں جستجو رہی تھی

گلشن میں وہ گل کھلا کہاں ہے

مجھ پر مختاری کا ہے الزام

سب تیرا ہے، مِرا کہاں ہے

Sunday, 24 July 2022

یہ گردشیں یہ الم اور یہ خوشی کیا ہے

 یہ گردشیں یہ الم اور یہ خوشی کیا ہے

بغیر ان کے ہماری یہ زندگی کیا ہے

نہ ہو خیال جسے دوستی میں دوستی کا

بلا وہ دوستی کیا اور وہ آدمی کیا ہے

جنوں نہ ہو تِری الفت میں قیس جیسا گر

یہ حسن کیا ہے تِرا، میری عاشقی کیا ہے

Wednesday, 20 July 2022

وہ بے وفا ہمیشہ سے عادی دغا کا تھا

 وہ بے وفا ہمیشہ سے عادی دغا کا تھا

لیکن مِرے خمیر میں عنصر وفا کا تھا

اک ہم نہیں تھے اس کے طلبگار شہر میں

عاشق امیرِ شہر بھی قاتل ادا کا تھا

دنیا کے حادثات میرا کیا بگاڑتے

ہر پل میرے وجود پہ سایہ خدا کا تھا

Tuesday, 19 July 2022

جب کبھی چہرے سے وہ پردہ اٹھا دیتے ہیں

 جب کبھی چہرے سے وہ پردہ اُٹھا دیتے ہیں

پھول بھی اپنی نگاہوں کو جھکا دیتے ہیں

اُجڑے گلشن میں ہم پھول کھلا دیتے ہیں

دشت و صحرا کو بھی گلزار بنا دیتے ہیں

ہم اگر سوئے ہیں تو خیر منا اپنی تُو

ہوش میں آتے ہیں تو حشر اُٹھا دیتے ہیں

Sunday, 17 July 2022

وہ ہم سے خفا رہتے ہیں اور ان سے خفا ہم

 وہ ہم سے خفا رہتے ہیں اور ان سے خفا ہم

لیکن کبھی رہتے نہیں ہیں دل سے جدا ہم

وہ ہم کو ستاتے ہیں، کبھی ہم بھی ستاتے

اک دوسرے پر دل سے مگر سچ میں فدا ہم

جیسے کوئی بجلی گرے اس دل پہ ہمارے

چھپ چھپ کے اسے دیکھتے ہیں جب بخدا ہم