یہ زندگی ہے میاں! اہتمام تھوڑی ہے
وہ شخص غیر ہے میرے بنام تھوڑی ہے
وہ جا چکا تو ہمارا بھی جانا بنتا ہے
ہمیں بھی ویسے یہاں کوئی کام تھوڑی ہے
کریں گے میرے سبھی دن بھی احترام تیرا
تُو شامِ غم ہے، کوئی عام شام تھوڑی ہے
یہ زندگی ہے میاں! اہتمام تھوڑی ہے
وہ شخص غیر ہے میرے بنام تھوڑی ہے
وہ جا چکا تو ہمارا بھی جانا بنتا ہے
ہمیں بھی ویسے یہاں کوئی کام تھوڑی ہے
کریں گے میرے سبھی دن بھی احترام تیرا
تُو شامِ غم ہے، کوئی عام شام تھوڑی ہے
مِرے بدن میں عجب آئینہ لگایا گیا
کہ جس میں کچھ بھی مکمل نہیں دکھایا گیا
تھی مِری سانس جسے ڈال کر غباروں میں
تمہاری سالگرہ کے لیے سجایا گیا
تُو پھر بھی عشق کی تحویل میں نہ آ پایا
خرد کو حدِ جنوں تک بھی کھینچ لایا گیا
اشک آنکھوں میں پروتا ہوں بہت روتا ہوں
جب اکیلا کہیں ہوتا ہوں بہت روتا ہوں
غور سے دیکھا نہیں تم نے کبھی میری طرف
جب میں ہنستا ہوا ہوتا ہوں بہت روتا ہوں
جب تِرے لمس کی آغوش بھی چھن جاتی ہے
رنج سے آنکھیں بھگوتا ہوں بہت روتا ہوں
کیا سمجھتا ہے بچھڑ کر رابطہ رہ جائے گا
اس طرح چھوڑوں گا میں تُو دیکھتا رہ جائے گا
تیرے ہونے سے یہاں موجودگی موجود ہے
تُو نہیں ہو گا تو باقی اور کیا رہ جائے گا
کوئی بھی آباد کر سکتا نہیں اس شہر کو
یہ ہمارے بعد بھی خالی پڑا رہ جائے گا
فقط یہی تو کمائی ہوئی ہے کمرے میں
سکوں کی نیند اگائی ہوئی ہے کمرے میں
دِیے نے خواب میں آ کر مجھے بتایا ہے
ہوا نے ٹانگ اڑائی ہوئی ہے کمرے میں
میرا تو تکیہ بھی باہر نکال پھینکا ہے
سنا ہے خوب صفائی ہوئی ہے کمرے میں