Showing posts with label امان اللہ جام. Show all posts
Showing posts with label امان اللہ جام. Show all posts

Tuesday, 22 March 2022

یہ زندگی ہے میاں اہتمام تھوڑی ہے

یہ زندگی ہے میاں! اہتمام تھوڑی ہے

وہ شخص غیر ہے میرے بنام تھوڑی ہے

وہ جا چکا تو ہمارا بھی جانا بنتا ہے

ہمیں بھی ویسے یہاں کوئی کام تھوڑی ہے

کریں گے میرے سبھی دن بھی احترام تیرا

تُو شامِ غم ہے، کوئی عام شام تھوڑی ہے

Sunday, 20 March 2022

مرے بدن میں عجب آئینہ لگایا گیا

 مِرے بدن میں عجب آئینہ لگایا گیا

کہ جس میں کچھ بھی مکمل نہیں دکھایا گیا

تھی مِری سانس جسے ڈال کر غباروں میں 

تمہاری سالگرہ کے لیے سجایا گیا 

تُو پھر بھی عشق کی تحویل میں نہ آ پایا

خرد کو حدِ جنوں تک بھی کھینچ لایا گیا

Saturday, 19 March 2022

اشک آنکھوں میں پروتا ہوں بہت روتا ہوں

 اشک آنکھوں میں پروتا ہوں بہت روتا ہوں

جب اکیلا کہیں ہوتا ہوں بہت روتا ہوں

غور سے دیکھا نہیں تم نے کبھی میری طرف

جب میں ہنستا ہوا ہوتا ہوں بہت روتا ہوں

جب تِرے لمس کی آغوش بھی چھن جاتی ہے

رنج سے آنکھیں بھگوتا ہوں بہت روتا ہوں

Friday, 11 March 2022

کیا سمجھتا ہے بچھڑ کر رابطہ رہ جائے گا

 کیا سمجھتا ہے بچھڑ کر رابطہ رہ جائے گا

اس طرح چھوڑوں گا میں تُو دیکھتا رہ جائے گا

تیرے ہونے سے یہاں موجودگی موجود ہے

تُو نہیں ہو گا تو باقی  اور کیا  رہ جائے گا

کوئی بھی آباد کر سکتا نہیں اس شہر کو

یہ ہمارے بعد بھی خالی پڑا رہ جائے گا

Monday, 7 February 2022

فقط یہی تو کمائی ہوئی ہے کمرے میں

 فقط یہی تو کمائی ہوئی ہے کمرے میں

سکوں کی نیند اگائی ہوئی ہے کمرے میں ‏

دِیے نے خواب میں آ کر مجھے بتایا ہے ‏

ہوا نے ٹانگ اڑائی ہوئی ہے کمرے میں ‏

میرا تو تکیہ بھی باہر نکال پھینکا ہے

سنا ہے خوب صفائی ہوئی ہے کمرے میں ‏