آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج
فخر سے عرشِبریں پر مِرا پہونچا ہے مزاج
کبھی بے گانہ وشی اور مدارات کبھی
کبھی عجب قسم کا اس شوخ نے پایا ہے مزاج
خاک میں مل کے ہوئے خاک بالآخر جن کا
عُجب و پندار سے افلاک پہ دیکھا ہے مزاج
خوبیاں جن کی معائب کو چھپا لیں ان کا
اس پُر آشوب جہاں میں بہت اچھا ہے مزاج
صیدِ وحشی کی طرح خوب کیا آج اسیر
میں نے شعروں میں جو یوں باندھ کے چھوڑا ہے مزاج
انیسہ ہارون شروانیہ
No comments:
Post a Comment