Showing posts with label صابر جوہری. Show all posts
Showing posts with label صابر جوہری. Show all posts

Friday, 3 December 2021

زندگی کا نصاب مانگتا ہے

 زندگی کا نصاب مانگتا ہے

وقت ام الکتاب مانگتا ہے

پست اندھیروں سے ہو کے عہد نو

اک نیا آفتاب مانگتا ہے

کتنا معصوم ہے مرا بچہ

مجھ سے وہ ماہتاب مانگتا ہے

Wednesday, 1 December 2021

مری نظر میں وہ معتبر رہنما نہیں ہے

 مِری نظر میں وہ معتبر رہنما نہیں ہے

سفر کے پیچ اور خم کا جس کو پتا نہیں ہے

نہ جانے کیوں سارے لوگ پتھر لیے ہوئے ہیں

ہمارے ہاتھوں میں تو کوئی آئینہ نہیں ہے

اجالے کرتے ہیں رقص ہر سو حریم دل میں

چراغ زخم جگر ابھی تک بجھا نہیں ہے

Friday, 26 November 2021

رقم اوصاف رب کے کر رہا ہے قلم کاغذ پہ سجدے کر رہا ہے

عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام


رقم اوصاف رب کے کر رہا ہے 

قلم کاغذ پہ سجدے کر رہا ہے

کرم کی ہو رہی ہے عام بارش 

زمانہ اس کے چرچے کر رہا ہے

منور نور ہستی سے تو یا رب 

دلوں کے آبگینے کر رہا ہے

Thursday, 24 December 2020

ہر طرف برپا ہے اک شور قیامت دیکھئے

 ہر طرف برپا ہے اک شور قیامت دیکھئے

حاکم دوراں کا یہ طرز حکومت دیکھئے

موم ہوں پر کر رہا ہوں چڑھتے سورج سے میں جنگ

میری ہمت دیکھئے، میری شجاعت دیکھئے

روز کرتے ہیں نمک پاشی مرے زخموں پہ وہ

مہربانوں کا یہ اندازِ عنایت دیکھئے

گھر کی آنگن کی ہیں دل کشی بیٹیاں

 گھر کی، آنگن کی ہیں دلکشی بیٹیاں

میری آنکھوں کی ہیں روشنی بیٹیاں

شام کو جب تھکا ماندہ آتا ہوں گھر

بن کے ملتی ہیں آسودگی بیٹیاں

جب مصیبت کی آتی ہے کوئی گھڑی

پیار سے کرتی ہیں دل دہی بیٹیاں