زندگی کا نصاب مانگتا ہے
وقت ام الکتاب مانگتا ہے
پست اندھیروں سے ہو کے عہد نو
اک نیا آفتاب مانگتا ہے
کتنا معصوم ہے مرا بچہ
مجھ سے وہ ماہتاب مانگتا ہے
زندگی کا نصاب مانگتا ہے
وقت ام الکتاب مانگتا ہے
پست اندھیروں سے ہو کے عہد نو
اک نیا آفتاب مانگتا ہے
کتنا معصوم ہے مرا بچہ
مجھ سے وہ ماہتاب مانگتا ہے
مِری نظر میں وہ معتبر رہنما نہیں ہے
سفر کے پیچ اور خم کا جس کو پتا نہیں ہے
نہ جانے کیوں سارے لوگ پتھر لیے ہوئے ہیں
ہمارے ہاتھوں میں تو کوئی آئینہ نہیں ہے
اجالے کرتے ہیں رقص ہر سو حریم دل میں
چراغ زخم جگر ابھی تک بجھا نہیں ہے
عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام
رقم اوصاف رب کے کر رہا ہے
قلم کاغذ پہ سجدے کر رہا ہے
کرم کی ہو رہی ہے عام بارش
زمانہ اس کے چرچے کر رہا ہے
منور نور ہستی سے تو یا رب
دلوں کے آبگینے کر رہا ہے
ہر طرف برپا ہے اک شور قیامت دیکھئے
حاکم دوراں کا یہ طرز حکومت دیکھئے
موم ہوں پر کر رہا ہوں چڑھتے سورج سے میں جنگ
میری ہمت دیکھئے، میری شجاعت دیکھئے
روز کرتے ہیں نمک پاشی مرے زخموں پہ وہ
مہربانوں کا یہ اندازِ عنایت دیکھئے
گھر کی، آنگن کی ہیں دلکشی بیٹیاں
میری آنکھوں کی ہیں روشنی بیٹیاں
شام کو جب تھکا ماندہ آتا ہوں گھر
بن کے ملتی ہیں آسودگی بیٹیاں
جب مصیبت کی آتی ہے کوئی گھڑی
پیار سے کرتی ہیں دل دہی بیٹیاں