Showing posts with label انیس دہلوی. Show all posts
Showing posts with label انیس دہلوی. Show all posts

Wednesday, 24 July 2024

تمام ارض و سما مہر و مہ کا محور ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تمام ارض و سما، مہر و مہ کا محور ہے

کہ تُو ہی خالقِ کل تُو ہی ربِ اکبر ہے

تِری بلندی سے ساری بلندیاں ہیں نگوں

کہ ختم تجھ پہ ہی سب مِدحتوں کا دفتر ہے

یہ رنگ و نور، بہار و خزاں، یہ لالہ و گل

یہاں وجود میں جو شے ہے تیری مظہر ہے

Friday, 11 September 2020

کیجیۓ ہنر کا ذکر کیا آبروئے ہنر نہیں

کیجیے ہنر کا ذکر کیا، آبروئے ہنر نہیں
سب کے بنائے ہم نے گھر اور ہمارا گھر نہیں
کیسا عجیب وقت ہے کوئی بھی ہمسفر نہیں
دھوپ بھی معتبر نہیں، سایہ بھی معتبر نہیں
جو میرے خواب میں رہی پیکر رنگ نور تھی 
یہ تو لہولہان ہے، یہ تو مِری سحر نہیں 

نہ رہبری کا کوئی سلسلہ نظر آئے

نہ رہبری کا کوئی سلسلہ نظر آئے
چلو وہ راہ جو بے نقش پا نظر آئے
اڑا گئے ہیں بہت دھول جانے والے لوگ
چھٹے غبار تو کچھ راستہ نظر آئے
بس ایک لمس کا احساس کر گیا بے چین
مہک ہی تیری نہ دست ہوا نظر آئے

Thursday, 15 October 2015

اب ایسے حال میں کیا حال بیکساں کہیے

اب ایسے حال میں کیا حال بے کساں کہیے
وہ کہہ رہے ہیں میاں مِری ہاں میں ہاں کہیے
اب ایسا دن بھی یہاں دیکھنا پڑا ہم کو
انہیں یہ ضد ہے قفس ہی کو آشیاں کہیے
یہ کش مکش یہ ستم، مصلحت یہ مجبوری
چمن اجاڑنے والوں کو باغباں کہیے

تلوار بنو درد کے مارے ہوئے لوگو

تلوار بنو درد کے مارے ہوئے لوگو
یوں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے ہوئے لوگو
ہمت ہو تو تعبیریں بھی کرتی ہیں عنایت
آنکھوں میں چلو خواب سنوارے ہوئے لوگو
تم مٹی ہو، مٹی کو حقارت سے نہ دیکھو
اے عرشِ معلیٰ سے اتارے ہوئے لوگو

سب کی پگڑی سر بازار ہے کیا عرض کروں

سب کی پگڑی سرِ بازار ہے کیا عرض کروں
رہنماؤں کا وہ کردار ہے کیا عرض کروں
جس کو سردار قبیلے کا بنایا تھا، وہی
غیر کے ہاتھ کی تلوار ہے کیا عرض کروں
مانگنا اس کو خدا سے بھی برا لگتا ہے
کس قدر دل مِرا خوددار ہے کیا عرض کروں

درد کے شہر سے ہجرت کی دعا مانگتا ہے

درد کے شہر سے ہجرت کی دعا مانگتا ہے
دل رسولوں کی طرح ارضِ وفا مانگتا ہے
آزمائش سے گزرنے کی نہیں ہے ہمت
معجزوں کے لیے ہر شخص عصا مانگتا ہے
میرے اللہ! مِرے فن کو نہیں اور طلب
بے نواؤں کے لیے حرفِ نوا مانگتا ہے