بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی
شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی
مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی
ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی
عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں
ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی
بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی
شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی
مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی
ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی
عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں
ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی
توانا ہوں دلِ رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں
میں جب مختار ہوں مجبور کی سوگند کیوں کھاؤں
مجھے عرشِ بریں کے جلوۂ دائم سے نسبت ہے
کوئی واعظ ہوں میں بھی حُور کی سوگند کیوں کھاؤں
مِرا طُورِ تجلی رات دن ہے میرے پہلو میں
نہیں جب آگ لینا طُور کی سوگند کیوں کھاؤں
افسانۂ حیات کو دُہرا رہا ہوں میں
یوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میں
اک اک قدم پہ درسِ وفا دے رہا ہوں میں
یہ کس کی جُستجو ہے کدھر جا رہا ہوں میں
یا رب! کسی کا دام حسیں منتظر نہ ہو
پر شوق کے لگے ہیں اُڑا جا رہا ہوں میں