Showing posts with label امین حزیں. Show all posts
Showing posts with label امین حزیں. Show all posts

Monday, 1 December 2025

تبدیل کر رہا ہوں میں عنوان زندگی

 بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی

شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی

مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی

ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی

عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں

ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی

Sunday, 27 October 2024

توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں

 توانا ہوں دلِ رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں

میں جب مختار ہوں مجبور کی سوگند کیوں کھاؤں

مجھے عرشِ بریں کے جلوۂ دائم سے نسبت ہے

کوئی واعظ ہوں میں بھی حُور کی سوگند کیوں کھاؤں

مِرا طُورِ تجلی رات دن ہے میرے پہلو میں

نہیں جب آگ لینا طُور کی سوگند کیوں کھاؤں

Monday, 9 September 2024

افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں

 افسانۂ حیات کو دُہرا رہا ہوں میں

یوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میں

اک اک قدم پہ درسِ وفا دے رہا ہوں میں

یہ کس کی جُستجو ہے کدھر جا رہا ہوں میں

یا رب! کسی کا دام حسیں منتظر نہ ہو

پر شوق کے لگے ہیں اُڑا جا رہا ہوں میں