اٹھتی نہیں زبان ستمگر کے رُوبرُو
بُت بن گیا ہوں اس بُتِ کافر کے روبرو
رعبِ جمالِ یار نے مبہوت کر دیا
پیکر کھڑا ہو جیسے صنم گر کے روبرو
ہم اس کے گیان دھیان میں جلووں کی آس میں
آسن جمائے بیٹھے ہیں اس گھر کے روبرو
پیروں تلے تھا جو کبھی پتھر بنا ہوا
وہ آئینہ کھڑا ہے سکندر کے روبرو
مستی سی چھا گئی ہے فضا میں خُمار ہے
آخر یہ کون آ گیا منظر کے روبرو
گو عُمر جستجو ہی میں کٹتی رہی مگر
جُھکنا پڑا ہے ہم کو مقدّر کے روبرو
جو جی میں آئے کیجیے مگر سوچ کر رحیم
جانا ہے ہم کو داورِ محشر کے روبرو
محمد رؤف رحیم الدین
No comments:
Post a Comment