لگا ہے روگ جب سے عاشقی کا
مزا آنے لگا ہے زندگی کا
اسے ہم دوستی کیسے کہیں گے
بھروسہ جب نہیں ہے دوستی کا
خودی سے بے نیاز ہو جائیے گا
عبادت نام ہے دیوانگی کا
ہمارے دور کی ہے مہربانی
ہے دُشمن آدمی ہی آدمی کا
سرِ محفل قیافے لگ رہے ہیں
سبب کیا ہے تمہاری خامشی کا
ملے گر ساتھ ہم کو تیرا تابش
مزا کچھ ہے الگ ہی میکشی کا
تابش دھرم کوٹی
ترسیم لال ٹھاکر
No comments:
Post a Comment