Tuesday, 30 June 2026

سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے

 سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے

اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے

کتنا شکی مزاج ہے اس کا

کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے

وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے

وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے

ناؤ کے ڈوبنے سے پہلے تو

ناخدا بھی خدا سا لگتا ہے

فاصلہ پہلے ناپ لے تب دیکھ

تارا کتنا ذرا سا لگتا ہے

جانے کیوں اک حسین چہرہ بھی

کبھی کچھ بدنما سا لگتا ہے

کیسے پہنچیں گے تا بہ منزل ہم

حوصلہ گُنگُنا سا لگتا ہے

اجنبی بھی جو غور سے دیکھو

آشنا آشنا سا لگتا ہے

اپنے جذبوں کو پڑھ رہا ہوں میں

تیرا منہ آئینا سا لگتا ہے


رشید کوثر فاروقی

No comments:

Post a Comment