سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے
اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے
کتنا شکی مزاج ہے اس کا
کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے
وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے
وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے
ناؤ کے ڈوبنے سے پہلے تو
ناخدا بھی خدا سا لگتا ہے
فاصلہ پہلے ناپ لے تب دیکھ
تارا کتنا ذرا سا لگتا ہے
جانے کیوں اک حسین چہرہ بھی
کبھی کچھ بدنما سا لگتا ہے
کیسے پہنچیں گے تا بہ منزل ہم
حوصلہ گُنگُنا سا لگتا ہے
اجنبی بھی جو غور سے دیکھو
آشنا آشنا سا لگتا ہے
اپنے جذبوں کو پڑھ رہا ہوں میں
تیرا منہ آئینا سا لگتا ہے
رشید کوثر فاروقی
No comments:
Post a Comment