سبب دردِ جگر یاد آیا
یعنی وہ تیرِ نظر یاد آیا
جِھلملانے لگے پلکوں پہ نجوم
پھر کوئی رشکِ قمر یاد آیا
اپنی منزل کے نشاں پاتے ہی
مجھ کو آغازِ سفر یاد آیا
دیکھ کر آئینہ کس سوچ میں ہو
کیا کوئی اہلِ نظر یاد آیا
بھولنے والے تڑپ اٹھے گا
میں کسی وقت اگر یاد آیا
ان کی پازیب ادھر گونج اٹھی
شور زنجیر ادھر یاد آیا
کیوں یہ بکھرا لیے گیسو تم نے
کیا کوئی خاک بسر یاد آیا
ایک حالت میں بسر ہو نہ سکی
شام کو وقت سحر یاد آیا
ہل گیا قلب دو عالم جرار
کون کرتا ہوا فریاد آیا
سید جرار رضوی چھولسی
No comments:
Post a Comment