نئی حیات کے سانچے میں
نئی حیات کے سانچے میں ڈھل رہا ہے وطن
بدل رہا ہے وطن
نئی اُمنگ نیا حوصلہ جگائے ہوئے
ترقیوں کی طرف پاؤں تیز اُٹھائے ہوئے
تمام اُلجھی ہوئی گُتھیوں کو سُلجھا کر
مصیبتوں کے بھنور سے نکل رہا ہے وطن
نئی حیات کے سانچے میں ڈھل رہا ہے وطن
بدل رہا ہے وطن
ہماری ہمت و محنت یہ رنگ لائی ہے
روِش روِش پہ چمن میں بہار آئی ہے
فضا سے خاک پہ رنگینیاں برسی ہیں
زمیں سے لعل و جواہر اُگل رہا ہے وطن
نئی حیات کے سانچے میں ڈھل رہا ہے وطن
بدل رہا ہے وطن
نہ سر اُٹھائے گی اب فِرقہ پروری یارو
نہ بات ہو گی کبھی اونچ نیچ کی یارو
ہر ایک دل کو محبت کی روشنی دے کر
عداوتوں کے اندھیرے کُچل رہا ہے وطن
نئی حیات کے سانچے میں ڈھل رہا ہے وطن
بدل رہا ہے وطن
جعفر ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment