کوشش امتزاج کرتا ہوں
حسن کو ہم مزاج کرتا ہوں
میری مشکل کو کوئی کیا سمجھے
کس طرح کل کو آج کرتا ہوں
میں سمجھتا ہوں بے دلی اپنی
جس طرح کام کاج کرتا ہوں
اپنے خالق سے اپنی قسمت پر
میں کہاں احتجاج کرتا ہوں
غیر تو غیر دوستوں سے بھی
کب بیاں احتیاج کرتا ہوں
اپنی دنیا الگ بسانے کو
ترک رسم و رواج کرتا ہوں
اے ذکی! سوزِ اندرونی کا
آنسوؤں سے علاج کرتا ہوں
ذکی احمد
No comments:
Post a Comment