Wednesday, 3 June 2026

کوشش امتزاج کرتا ہوں

 کوشش امتزاج کرتا ہوں

حسن کو ہم مزاج کرتا ہوں

میری مشکل کو کوئی کیا سمجھے

کس طرح کل کو آج کرتا ہوں

میں سمجھتا ہوں بے دلی اپنی

جس طرح کام کاج کرتا ہوں

اپنے خالق سے اپنی قسمت پر

میں کہاں احتجاج کرتا ہوں

غیر تو غیر دوستوں سے بھی

کب بیاں احتیاج کرتا ہوں

اپنی دنیا الگ بسانے کو

ترک رسم و رواج کرتا ہوں

اے ذکی! سوزِ اندرونی کا

آنسوؤں سے علاج کرتا ہوں


ذکی احمد

No comments:

Post a Comment