مجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے
جسے مُجھ سے عداوت ہو گئی ہے
مشینی شہر میں دو چار لمحے
بہت نایاب فُرصت ہو گئی ہے
میں بیکاری کے دوزخ میں پڑا ہوں
مِرے گھر میں قیامت ہو گئی ہے
وہ تجھ کو گالی دے کر ہنس رہا ہے
تِری چُپ کی شرافت ہو گئی ہے
نہیں مِلتا تو یوں لگتا ہے مجھ کو
کہ جیسے اس کی عادت ہو گئی ہے
روایت توڑتا رہتا ہے خالد
مگر یہ بھی روایت ہو گئی ہے
خالد غنی
No comments:
Post a Comment