Wednesday, 17 June 2026

دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں

 دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں

کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں

خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب

لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں

اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب

پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں

محفل میں شاد تھے سبھی اپنی ہی دُھن میں مست

پوچھا کسی نے کیا ہے تیرے دل میں غم نہاں

دن تھے بہار کے تو چمن میں ہجوم تھا

آئی خزاں تو لوگ نہ جانے گئے کہاں


محمد حازم حسان

No comments:

Post a Comment