دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں
کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں
خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب
لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں
اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب
پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں
محفل میں شاد تھے سبھی اپنی ہی دُھن میں مست
پوچھا کسی نے کیا ہے تیرے دل میں غم نہاں
دن تھے بہار کے تو چمن میں ہجوم تھا
آئی خزاں تو لوگ نہ جانے گئے کہاں
محمد حازم حسان
No comments:
Post a Comment