Showing posts with label نفیسہ حیا. Show all posts
Showing posts with label نفیسہ حیا. Show all posts

Monday, 13 November 2023

احساس ہوا اس کے یوں روٹھ کے جانے پر

 احساس ہوا اس کے یوں رُوٹھ کے جانے پر

مانے گا نہیں شاید وہ آج منانے پر

ملتا تھا بہانے سے اب جانے ہوا ہے کیا

مُشکل سے ملتا ہے گھر اس کے بھی جانے پر

اب حرف شکایت بھی کیا کرتے بھلا ان سے

مجبور ہوئے ہیں ہم اب اس کو بُھلانے پر

Sunday, 5 November 2023

خلوص دل نہ ہو جس میں وہ سجدہ ہو نہیں سکتا

 خلوص دل نہ ہو جس میں وہ سجدہ ہو نہیں سکتا

ریا کاری سے کوئی کام سچا ہو نہیں سکتا

جو اپنی گفتگو سے بھی مجھے تکلیف دیتا یے

مسیحا خود کو کہتا ہے، مسیحا ہو نہیں سکتا

مجھے تو حکم تم نے دے دیا ترکِ محبت کا

مگر کیسے بتاؤں، مجھ سے ایسا ہو نہیں سکتا

Saturday, 4 November 2023

میں یہاں ہوں وہ وہاں تنہا

 میں یہاں ہوں وہ وہاں تنہا 

ہے رواں زیرِ لب فُغاں تنہا 

گُلشنوں کی بہار کر کے تباہ 

رقص کرتی ہے اب خِزاں تنہا  

تُو بچا لے خدا سفینہ کو 

زورِ طوفاں ہے بادباں تنہا 

Monday, 28 February 2022

پروان چڑھ رہی تھی جو چاہت عجیب تھی

 پروان چڑھ رہی تھی جو چاہت عجیب تھی

تھا اشتیاق اور وہ حسرت عجیب تھی

اک کیف تھا کہ کر نہ سکوں میں بیاں جسے

تھا اک جنون جس میں کہ لذت عجیب تھی

رخسار سرخ ہوتے تھے احساسِ قرب سے

تھا سحر اس کے نام میں رغبت عجیب تھی

Friday, 25 February 2022

یہ قلب تجھے یاد بھی کرنے نہیں دیتا

 یہ قلب تجھے یاد بھی کرنے نہیں دیتا

اشکوں کے سمندر میں اترنے نہیں دیتا

رہ رہ کے کسک دل کی بھی جینے نہیں دیتی 

جینا بھی مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا 

پھولوں کو کتابوں میں صنم کر کے مقید 

خوشبو بھی ہواؤں میں  بکھرنے نہیں دیتا