احساس ہوا اس کے یوں رُوٹھ کے جانے پر
مانے گا نہیں شاید وہ آج منانے پر
ملتا تھا بہانے سے اب جانے ہوا ہے کیا
مُشکل سے ملتا ہے گھر اس کے بھی جانے پر
اب حرف شکایت بھی کیا کرتے بھلا ان سے
مجبور ہوئے ہیں ہم اب اس کو بُھلانے پر
احساس ہوا اس کے یوں رُوٹھ کے جانے پر
مانے گا نہیں شاید وہ آج منانے پر
ملتا تھا بہانے سے اب جانے ہوا ہے کیا
مُشکل سے ملتا ہے گھر اس کے بھی جانے پر
اب حرف شکایت بھی کیا کرتے بھلا ان سے
مجبور ہوئے ہیں ہم اب اس کو بُھلانے پر
خلوص دل نہ ہو جس میں وہ سجدہ ہو نہیں سکتا
ریا کاری سے کوئی کام سچا ہو نہیں سکتا
جو اپنی گفتگو سے بھی مجھے تکلیف دیتا یے
مسیحا خود کو کہتا ہے، مسیحا ہو نہیں سکتا
مجھے تو حکم تم نے دے دیا ترکِ محبت کا
مگر کیسے بتاؤں، مجھ سے ایسا ہو نہیں سکتا
میں یہاں ہوں وہ وہاں تنہا
ہے رواں زیرِ لب فُغاں تنہا
گُلشنوں کی بہار کر کے تباہ
رقص کرتی ہے اب خِزاں تنہا
تُو بچا لے خدا سفینہ کو
زورِ طوفاں ہے بادباں تنہا
پروان چڑھ رہی تھی جو چاہت عجیب تھی
تھا اشتیاق اور وہ حسرت عجیب تھی
اک کیف تھا کہ کر نہ سکوں میں بیاں جسے
تھا اک جنون جس میں کہ لذت عجیب تھی
رخسار سرخ ہوتے تھے احساسِ قرب سے
تھا سحر اس کے نام میں رغبت عجیب تھی
یہ قلب تجھے یاد بھی کرنے نہیں دیتا
اشکوں کے سمندر میں اترنے نہیں دیتا
رہ رہ کے کسک دل کی بھی جینے نہیں دیتی
جینا بھی مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا
پھولوں کو کتابوں میں صنم کر کے مقید
خوشبو بھی ہواؤں میں بکھرنے نہیں دیتا