نیم انسان مخلوق سے
ایک مخلوق نے اس کی تخلیق کی
خاکِ سفاک سے اس کا نطفہ بنایا گیا
رحمِ بے رحم کے
گھُپ اندھیروں میں رکھا گیا
آتشی بغض سے
سارے اعضاء بنا کر انہیں
نیم انسان مخلوق سے
ایک مخلوق نے اس کی تخلیق کی
خاکِ سفاک سے اس کا نطفہ بنایا گیا
رحمِ بے رحم کے
گھُپ اندھیروں میں رکھا گیا
آتشی بغض سے
سارے اعضاء بنا کر انہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے تصور میں عہدِ نبیﷺ سامنے، اس زمانے کے پل جگمگاتے ہوئے
آنکھ کے سامنے ہیں مناظر بہت، چلتے پھرتے ہوئے، آتے جاتے ہوئے
ایک چادر کو تھامے ہوئے ہیں سبھی، چاہتے ہیں سبھی آپ سے منصفی
آپ کے دستِ فیصل میں سنگِ سیہ سب قبیلوں کا جھگڑا مٹاتے ہوئے
عتبہ ابن ربیعہ ہے بیٹھا ہوا، صحنِ کعبہ میں ہاتھوں کو ٹیکے ہوئے
اور نبیﷺ اس کو ترغیب و ترہیب کی چند آیاتِ قرآں سناتے ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپ تو جانتے ہیں مرے کرب کو، آپ سے کیا چھپا ہے بھلا یا نبیﷺ
میرے احوال پر بھی نظر کیجیے، آپ کو آپ کا واسطہ یا نبیﷺ
آپ کا دین دنیا میں دائم رہے سختیوں میں بھی ہم اس پہ قائم رہے
سخت مشکل ہے انگارۂ سرخ کو یوں کفِ دست میں تھامنا یا نبیﷺ
سال ہا سال سےکاٹتی ہیں یہاں کتنی نسلیں غلامی کی آزادیاں
یہ جو زنجیر ہے، کیا یہ تقدیر ہے کیا کبھی ہم بھی ہوں گے رہا یا نبیﷺ
کیسا طویل ہجر تھا پھر بھی گیا نہیں ہے تُو
مجھ سے الگ سہی مگر مجھ سے جدا نہیں ہے تو
تُو مِری کائنات میں مجھ پہ گزرتا وقت ہے
چاہے مِرے سوا بھی ہو میرے سوا نہیں ہے تو
یہ کوئی اور پیار تھا وہ کوئی اور عشق ہے
تُو مِری جان ہے مگر میرا خدا نہیں ہے تو
تیز لہکتی بارش ہے، رسی پر کپڑے بھیگتے ہیں
آؤ ہم بھی ایسے بھیگیں جیسے بچے بھیگتے ہیں
سرخ سنہری بیلڑیوں پر نقرئی کلیاں کھل اٹھیں
ایک گلابی سرمستی میں پھول اور پتے بھیگتے ہیں
دیکھو یوں بھیگا جاتا ہے شام کے سنگِ مرمر پر
دھوپ اور بارش ساتھ ہیں دونوں اور اکٹھے بھیگتے ہیں
بچھڑ رہا ہے یہ دل زندگی کے دھارے سے
مگر یہ بات کہے کون اتنے پیارے سے
نکل رہا ہوں بہت دور اس زمین سے میں
کلام کرتا ہوا صبح کے ستارے سے
وہ گر رہا ہے کسی آبشار کی صورت
میں تک رہا ہوں اسے آخری کنارے سے
حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو
سات سروں کی لہروں پہ ہلکورے لیتے پھول سے ہیں
اک مدہوش فضا سنتی ہے اک چڑیا کے گانے کو
بولتی ہو تو یوں ہے جیسے پھول پہ تتلی ڈولتی ہو
تم نے کیسا سبز کیا ہے اور کیسے ویرانے کو
نظر کے بھید سب اہلِ نظر سمجھتے ہیں
جو بے خبر ہیں انہیں بے خبر سمجھتے ہیں
نہ ان کی چھاؤں میں برکت نہ برگ و بار میں فیض
وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں
انھوں نے جھکتے ہوئے پیڑ ہی نہیں دیکھے
جو اپنے کاغذی پھل کو ثمر سمجھتے ہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہے ایک سیلِ ندامت اس آبگینے میں
عجیب ہے یہ سمندر کہ ہے سفینے میں
اسی زمیں اسی مٹی سے نور پُھوٹا تھا
اسی دیار، اسی رُت، اسی مہینے میں
ہے بند آنکھ میں بھی عکسِ مسجدِ نبوی
جَڑا ہوا ہے یہی خواب اس نگینے میں
ایک معیار مستقل رکھنا
درد شایان شان دل رکھنا
ہنستی بستی زمین جانتی ہے
سرخ لاوا درونِ گل رکھنا
منجمد جھیل جیسا لگتا ہے
زخم اوپر سے مندمل رکھنا
عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی
ہم بھی ویسے نہ رہے، دشت بھی ویسا نہ رہا
عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی
وہ جو برباد ہوئے تھے تِرے ہاتھوں وہی لوگ
دم بخود دیکھ رہے ہیں تِری حیرانی بھی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بلند ہاتھ میں کاسہ ہے دستِ خالی کا
حرم کی سمت سفر ہے یہ مجھ سوالی کا
کبھی کبھی میری آنکھوں میں آ کے دیکھتی ہے
یہ اشتیاق عجب ہے لہو کی لالی کا
خیال بس میں نہیں لفظ دسترس میں نہیں
قصیدہ کیسے کہوں پیکرِ مثالی کا
تُو جا رہا تھا لوٹ کے، مہمان کی طرح
بکھرا ہوا تھا دل تِرے سامان کی طرح
کیسے کِھنچے یہ تیر کہ یہ ہے تو میں بھی ہوں
پیوست ہے رگوں میں مِری جان کی طرح
اک نام فاصلوں پہ بھی ہے متصل بھی ہے
میری کتابِ عمر کے عنوان کی طرح
ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا
تیرا تو کچھ گیا نہیں، مارا تو میں گیا
جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا
تُو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا
یہ طاق، یہ چراغ مرے کام کے نہیں
آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا
رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے
کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے
ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچھے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے
جو صرف ایک ہے وہ دوسرا بنے گا نہیں
خدا بناتے ہو، لیکن خدا بنے گا نہیں
یہاں مفاد بدلتے ہیں دھوپ چھاؤں کے ساتھ
تِرا بنایا ہوا بھی، تِرا بنے گا نہیں
برا بنا کے تجھے چھوڑ دیں گے سب لیکن
تِرے لیے کبھی کوئی بُرا بنے گا نہیں
کچھ بھی ہو خُوئے یار سے ہٹنے کی خُو نہ ہو
نعت و سلام و مدح میں یا رب غلو نہ ہو
مضمون آفرینی و نکتہ سرائی میں
ایسا نہ ہو کہ چہرۂ حق سرخرو نہ ہو
میری سپہ مجھی پہ نہ تلوار سونت لے
میرا لکھا ہوا کہیں میرا عدو نہ ہو
دیوارِ وصال درمیاں ہے
کیا ختم ہوئیں ہماری باتیں
کیا آ گئے آخری کنارے
کیا موسم گل گزر چکا ہے
کیا خواب بکھر گئے ہمارے
کیا خواب بکھر گئے ہمارے
آنکھوں سے قصور کیا ہوا ہے
ہچکیوں نے کسی دیوار میں در رکھا تھا
میرے آباء نے جب اس خاک پہ سر رکھا تھا
گھر سے نکلے تھے تو اک دشتِ فنا کی صورت
راہ میں صرف سفر، صرف سفر رکھا تھا
دل تھے متروکہ مکانات کی صورت خالی
اور اسباب میں بچھڑا ہوا گھر رکھا تھا