Showing posts with label سعود عثمانی. Show all posts
Showing posts with label سعود عثمانی. Show all posts

Monday, 26 August 2024

نیم انسان مخلوق سے

 نیم انسان مخلوق سے


ایک مخلوق نے اس کی تخلیق کی

خاکِ سفاک سے اس کا نطفہ بنایا گیا

رحمِ بے رحم کے

گھُپ اندھیروں میں رکھا گیا

آتشی بغض سے  

سارے اعضاء بنا کر انہیں  

Tuesday, 20 August 2024

ہے تصور میں عہد نبی سامنے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے تصور میں عہدِ نبیﷺ سامنے، اس زمانے کے پل جگمگاتے ہوئے

آنکھ کے سامنے ہیں مناظر بہت، چلتے پھرتے ہوئے، آتے جاتے ہوئے

ایک چادر کو تھامے ہوئے ہیں سبھی، چاہتے ہیں سبھی آپ سے منصفی

آپ کے دستِ فیصل میں سنگِ سیہ سب قبیلوں کا جھگڑا مٹاتے ہوئے

عتبہ ابن ربیعہ ہے بیٹھا ہوا، صحنِ کعبہ میں ہاتھوں کو ٹیکے ہوئے

اور نبیﷺ اس کو ترغیب و ترہیب کی چند آیاتِ قرآں سناتے ہوئے

Saturday, 24 June 2023

آپ تو جانتے ہیں مرے کرب کو، آپ سے کیا چھپا ہے بھلا یا نبی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپ تو جانتے ہیں مرے کرب کو، آپ سے کیا چھپا ہے بھلا یا نبیﷺ

میرے احوال پر بھی نظر کیجیے، آپ کو آپ کا واسطہ یا نبیﷺ

آپ کا دین دنیا میں دائم رہے سختیوں میں بھی ہم اس پہ قائم رہے

سخت مشکل ہے انگارۂ سرخ کو یوں کفِ دست میں تھامنا یا نبیﷺ

سال ہا سال سےکاٹتی ہیں یہاں کتنی نسلیں غلامی کی آزادیاں

یہ جو زنجیر ہے، کیا یہ تقدیر ہے کیا کبھی ہم بھی ہوں گے رہا یا نبیﷺ

Wednesday, 29 March 2023

کیسا طویل ہجر تھا پھر بھی گیا نہیں ہے تو

 کیسا طویل ہجر تھا پھر بھی گیا نہیں ہے تُو

مجھ سے الگ سہی مگر مجھ سے جدا نہیں ہے تو

تُو مِری کائنات میں مجھ پہ گزرتا وقت ہے

چاہے مِرے سوا بھی ہو میرے سوا نہیں ہے تو

یہ کوئی اور پیار تھا وہ کوئی اور عشق ہے

تُو مِری جان ہے مگر میرا خدا نہیں ہے تو

Wednesday, 15 March 2023

تیز لہکتی بارش ہے رسی پر کپڑے بھیگتے ہیں

تیز لہکتی بارش ہے، رسی پر کپڑے بھیگتے ہیں

آؤ ہم بھی ایسے بھیگیں جیسے بچے بھیگتے ہیں

سرخ سنہری بیلڑیوں پر نقرئی کلیاں کھل اٹھیں

ایک گلابی سرمستی میں پھول اور پتے بھیگتے ہیں

دیکھو یوں بھیگا جاتا ہے شام کے سنگِ مرمر پر

دھوپ اور بارش ساتھ ہیں دونوں اور اکٹھے بھیگتے ہیں

Monday, 20 February 2023

بچھڑ رہا ہے یہ دل زندگی کے دھارے سے

 بچھڑ رہا ہے یہ دل زندگی کے دھارے سے

مگر یہ بات کہے کون اتنے پیارے سے

نکل رہا ہوں بہت دور اس زمین سے میں

کلام کرتا ہوا صبح کے ستارے سے

وہ گر رہا ہے کسی آبشار کی صورت

میں تک رہا ہوں اسے آخری کنارے سے

Tuesday, 10 January 2023

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

 حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

سات سروں کی لہروں پہ ہلکورے لیتے پھول سے ہیں

اک مدہوش فضا سنتی ہے اک چڑیا کے گانے کو

بولتی ہو تو یوں ہے جیسے پھول پہ تتلی ڈولتی ہو

تم نے کیسا سبز کیا ہے اور کیسے ویرانے کو

Tuesday, 13 December 2022

نظر کے بھید سب اہل نظر سمجھتے ہیں

 نظر کے بھید سب اہلِ نظر سمجھتے ہیں

جو بے خبر ہیں انہیں بے خبر سمجھتے ہیں

نہ ان کی چھاؤں میں برکت نہ برگ و بار میں فیض

وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں

انھوں نے جھکتے ہوئے پیڑ ہی نہیں دیکھے

جو اپنے کاغذی پھل کو ثمر سمجھتے ہیں

Friday, 15 July 2022

ہے ایک سیل ندامت اس آبگینے میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہے ایک سیلِ  ندامت اس آبگینے میں 

عجیب ہے یہ سمندر کہ ہے سفینے میں 

اسی زمیں اسی مٹی سے نور پُھوٹا تھا 

اسی دیار، اسی رُت، اسی مہینے میں 

ہے بند آنکھ میں بھی عکسِ مسجدِ نبوی 

جَڑا ہوا ہے یہی خواب اس نگینے میں 

Wednesday, 22 June 2022

ایک معیار مستقل رکھنا

ایک معیار مستقل رکھنا

درد شایان شان دل رکھنا

ہنستی بستی زمین جانتی ہے

سرخ لاوا درونِ گل رکھنا

منجمد جھیل جیسا لگتا ہے

زخم اوپر سے مندمل رکھنا

Wednesday, 8 June 2022

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی

 عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی

اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

ہم بھی ویسے نہ رہے، دشت بھی ویسا نہ رہا

عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی

وہ جو برباد ہوئے تھے تِرے ہاتھوں وہی لوگ

دم بخود دیکھ رہے ہیں تِری حیرانی بھی

Monday, 22 November 2021

بلند ہاتھ میں کاسہ ہے دست خالی کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بلند ہاتھ میں کاسہ ہے دستِ خالی کا

حرم کی سمت سفر ہے یہ مجھ سوالی کا

کبھی کبھی میری آنکھوں میں آ کے دیکھتی ہے

یہ اشتیاق عجب ہے لہو کی لالی کا

خیال بس میں نہیں لفظ دسترس میں نہیں

قصیدہ کیسے کہوں پیکرِ مثالی کا

Tuesday, 10 November 2020

تو جا رہا تھا لوٹ کے مہمان کی طرح

تُو جا رہا تھا لوٹ کے، مہمان کی طرح

بکھرا ہوا تھا دل تِرے سامان کی طرح

کیسے کِھنچے یہ تیر کہ یہ ہے تو میں بھی ہوں

پیوست ہے رگوں میں مِری جان کی طرح

اک نام فاصلوں پہ بھی ہے متصل بھی ہے

میری کتابِ عمر کے عنوان کی طرح

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا

 ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا

تیرا تو کچھ گیا نہیں، مارا تو میں گیا

جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا

تُو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا

یہ طاق، یہ چراغ مرے کام کے نہیں

آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا

Monday, 26 October 2020

یہ نہ ہو اک یہی ساتھی رہ جائے

یہ نہ ہو اک یہی ساتھی رہ جائے
ہجرِ فانی ہی نہ باقی رہ جائے
دن کی تدفین میں شامل ہو چراغ
اور اک لو جو بھڑکتی رہ جائے
نقش پا رکھ کےچلا جائے کوئی
اور یہ رہ انہیں تکتی رہ جائے

Friday, 23 October 2020

رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے

 رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے

جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی

کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے

پیچھے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے

Monday, 12 October 2020

جو صرف ایک ہے وہ دوسرا بنے گا نہیں

 جو صرف ایک ہے وہ دوسرا بنے گا نہیں

خدا بناتے ہو، لیکن خدا بنے گا نہیں

یہاں مفاد بدلتے ہیں دھوپ چھاؤں کے ساتھ

تِرا بنایا ہوا بھی، تِرا بنے گا نہیں

برا بنا کے تجھے چھوڑ دیں گے سب لیکن

تِرے لیے کبھی کوئی بُرا بنے گا نہیں

Wednesday, 7 October 2020

کچھ بھی ہو خوئے یار سے ہٹنے کی خو نہ ہو

 کچھ بھی ہو خُوئے یار سے ہٹنے کی خُو نہ ہو

نعت و سلام و مدح میں یا رب غلو نہ ہو

مضمون آفرینی و نکتہ سرائی میں

ایسا نہ ہو کہ چہرۂ حق سرخرو نہ ہو

میری سپہ مجھی پہ نہ تلوار سونت لے

میرا لکھا ہوا کہیں میرا عدو نہ ہو

دیوار وصال درمیاں ہے

 دیوارِ وصال درمیاں ہے


کیا ختم ہوئیں ہماری باتیں

کیا آ گئے آخری کنارے

کیا موسم گل گزر چکا ہے

کیا خواب بکھر گئے ہمارے

کیا خواب بکھر گئے ہمارے

آنکھوں سے قصور کیا ہوا ہے

Saturday, 3 October 2020

ہچکیوں نے کسی دیوار میں در رکھا تھا

 ہچکیوں نے کسی دیوار میں در رکھا تھا

میرے آباء نے جب اس خاک پہ سر رکھا تھا

گھر سے نکلے تھے تو اک دشتِ فنا کی صورت

راہ میں صرف سفر، صرف سفر رکھا تھا

دل تھے متروکہ مکانات کی صورت خالی

اور اسباب میں بچھڑا ہوا گھر رکھا تھا