لاکھ روکیں عدُو نہیں رُکتا
ظلم سے تند خُو نہیں رکتا
اس کشاکش سے دل پریشاں ہے
میں ٹھہرتا ہوں، تُو نہیں رکتا
سب پشیمانیاں ہیں ماضی کی
وہ مِرے روبرُو نہیں رکتا
لاکھ روکیں عدُو نہیں رُکتا
ظلم سے تند خُو نہیں رکتا
اس کشاکش سے دل پریشاں ہے
میں ٹھہرتا ہوں، تُو نہیں رکتا
سب پشیمانیاں ہیں ماضی کی
وہ مِرے روبرُو نہیں رکتا
تجھے ہم ایسے بہ صد احترام دیکھتے ہیں
کہ جیسے شاہ کی جانب غلام دیکھتے ہیں
تمام رات چراغوں نے ہچکیاں جھیلیں
ہوا کا جبر بہت بے لگام دیکھتے ہیں
طویل دن کا تبسم بھی رائیگاں ٹھہرا
سحر گزیدہ نگاہوں سے شام دیکھتے ہیں
معذور ہے غزل کا جو پیکر ہے، ہائے ہائے
مطلعے کے واسطے کوئی منتر ہے ہائے ہائے
دریا کے اضطراب کو میں مانتا ہوں دوست
لیکن جو میری روح کے اندر ہے، ہائے ہائے
مجھ سے تو کم سے کم یہ حماقت بعید تھی
اس پر گمانِ موم جو پتھر ہے، ہائے ہائے
سبز کرنوں سے اجالا کر دے
اب مجھے اپنا حوالہ کر دے
شب کے آنگن میں ٹہل کر کچھ پل
چاند کو جسم کا ہالہ کر دے
مسکراہٹ کی جلا کر مشعل
ہر اداسی تہ و بالا کر دے
اپنے خدا کو میں نے خداؤں میں بیٹھ کر
ڈھونڈا ہے بیس سال بلاؤں میں بیٹھ کر
بیٹوں کو روزگار کا غم شہر لے گیا
مائیں ضعیف ہو گئیں گاؤں میں بیٹھ کر
اس کے لکھے ہوئے کو میں کیوں مستند کہوں
صحرا پہ لکھ رہا ہے جو چھاؤں میں بیٹھ کر
جو زیرِ آب تھے ان کو چناب دینا پڑا
برائے تشنہ لبی پھر سراب دینا پڑا
بہت سے لوگ محبت کے مقتضی تھے یہاں
پر اس کو دیکھ کے سب کو جواب دینا پڑا
عجب طرح کی جسارت کا سامنا تھا مجھے
جو خود گُلاب تھا اس کو گُلاب دینا پڑا
جواب ایسا تراشو سوال جلتا رہے
یقیں کی آگ میں ہر احتمال جلتا رہے
اسی لیے تو بکھیری ہے سورجوں نے تپش
محیطِ دشت کسی کا خیال جلتا رہے
ابھی نئی نئی شہرت ہے شاعری میں مِری
عروج ابھی وہ کہاں کہ زوال جلتا رہے
اس کے میرے معاہدے وحشت
سب محبت کے سلسلے وحشت
ہنس کے سینے لگا لیا میں نے
آئی جب میرے سامنے وحشت
حاکمِ شہر کی یہ خواہش ہے
شہر میں ناچتی پھرے وحشت
سر سے خوشیوں کی بلا آج تو ٹالی جائے
قہقہے ہونٹ سے اور ہاتھ سے تالی جائے
جیب کا بوجھ بڑھاتے ہوئے سِکوں کے عوض
کیوں نہ مجبور فقیروں سے دعا لی جائے
کتنی لذت ہے ان آنکھوں کو لہو کرنے میں
دل یہ چاہے کہ شبِ ہجر بڑھا لی جائے
خزاں کے دور میں کر اعتبار لفظوں کا
بھرم رکھے گی کسی دن بہار لفظوں کا
زباں کا حسن، قلم کا کمال بکنے لگا
چمک رہا ہے بہت کاروبار لفظوں کا
مِرے یقین کے اوراق بے نشاں نہ رہیں
کچھ اس طرح سے ذخیرہ اتار لفظوں کا
بے خلل بے شور رُت کی جب کہانی سوچنا
زندگی پر موت کی بھی مہربانی سوچنا
شب کے آوارہ ہنر میں گنگنانا چاندنی
دھوپ کی صناعیوں میں سائبانی سوچنا
در بہ در صحرا نوردوں کی نظر میں جرم ہے
تشنگی کی آخری منزل پہ پانی سوچنا
وہ جو آوارہ مسافر ہیں کدھر جاتے ہیں
شام کے وقت پرندے بھی تو گھر جاتے ہیں
رات کی چیختی وحشت کا بھرم رکھنے کو
ہم ستاروں کی طرح تا بہ سحر جاتے ہیں
اس قدر ظرف کی تنگی کا ہمیں سامنا ہے
کچھ سمندر ہیں جو دریا میں اتر جاتے ہیں