Showing posts with label حیدر عباس. Show all posts
Showing posts with label حیدر عباس. Show all posts

Monday, 30 October 2023

لاکھ روکیں عدو نہیں رکتا

 لاکھ روکیں عدُو نہیں رُکتا

ظلم سے تند خُو نہیں رکتا

اس کشاکش سے دل پریشاں ہے

میں ٹھہرتا ہوں، تُو نہیں رکتا

سب پشیمانیاں ہیں ماضی کی

وہ مِرے روبرُو نہیں رکتا

Sunday, 23 October 2022

تجھے ہم ایسے بہ صد احترام دیکھتے ہیں

 تجھے ہم ایسے بہ صد احترام دیکھتے ہیں

کہ جیسے شاہ کی جانب غلام دیکھتے ہیں

تمام رات چراغوں نے ہچکیاں جھیلیں

ہوا کا جبر بہت بے لگام دیکھتے ہیں

طویل دن کا تبسم بھی رائیگاں ٹھہرا

سحر گزیدہ نگاہوں سے شام دیکھتے ہیں

Saturday, 26 February 2022

معذور ہے غزل کا جو پیکر ہے ہائے ہائے

 معذور ہے غزل کا جو پیکر ہے، ہائے ہائے

مطلعے کے واسطے کوئی منتر ہے ہائے ہائے

دریا کے اضطراب کو میں مانتا ہوں دوست

لیکن جو میری روح کے اندر ہے، ہائے ہائے

مجھ سے تو کم سے کم یہ حماقت بعید تھی

اس پر گمانِ موم جو پتھر ہے، ہائے ہائے

Monday, 7 February 2022

سبز کرنوں سے اجالا کر دے

 سبز کرنوں سے اجالا کر دے

اب مجھے اپنا حوالہ کر دے

شب کے آنگن میں ٹہل کر کچھ پل

چاند کو جسم کا ہالہ کر دے

مسکراہٹ کی جلا کر مشعل

ہر اداسی تہ و بالا کر دے

Wednesday, 20 October 2021

اپنے خدا کو میں نے خداؤں میں بیٹھ کر

 اپنے خدا کو میں نے خداؤں میں بیٹھ کر

ڈھونڈا ہے بیس سال بلاؤں میں بیٹھ کر

بیٹوں کو روزگار کا غم شہر لے گیا

مائیں ضعیف ہو گئیں گاؤں میں بیٹھ کر

اس کے لکھے ہوئے کو میں کیوں مستند کہوں

صحرا پہ لکھ رہا ہے جو چھاؤں میں بیٹھ کر

Monday, 19 April 2021

جو زیر آب تھے ان کو چناب دینا پڑا

 جو زیرِ آب تھے ان کو چناب دینا پڑا

برائے تشنہ لبی پھر سراب دینا پڑا

بہت سے لوگ محبت کے مقتضی تھے یہاں

پر اس کو دیکھ کے سب کو جواب دینا پڑا

عجب طرح کی جسارت کا سامنا تھا مجھے

جو خود گُلاب تھا اس کو گُلاب دینا پڑا

Sunday, 11 April 2021

جواب ایسا تراشو سوال جلتا رہے

 جواب ایسا تراشو سوال جلتا رہے

یقیں کی آگ میں ہر احتمال جلتا رہے

اسی لیے تو بکھیری ہے سورجوں نے تپش

محیطِ دشت کسی کا خیال جلتا رہے

ابھی نئی نئی شہرت ہے شاعری میں مِری

عروج ابھی وہ کہاں کہ زوال جلتا رہے

Tuesday, 30 March 2021

اس کے میرے معاہدے وحشت

 اس کے میرے معاہدے وحشت 

سب محبت کے سلسلے وحشت 

ہنس کے سینے لگا لیا میں نے 

آئی جب میرے سامنے وحشت 

حاکمِ شہر کی یہ خواہش ہے 

شہر میں ناچتی پھرے وحشت

Tuesday, 12 January 2021

سر سے خوشیوں کی بلا آج تو ٹالی جائے

 سر سے خوشیوں کی بلا آج تو ٹالی جائے

قہقہے ہونٹ سے اور ہاتھ سے تالی جائے

جیب کا بوجھ بڑھاتے ہوئے سِکوں کے عوض

کیوں نہ مجبور فقیروں سے دعا لی جائے

کتنی لذت ہے ان آنکھوں کو لہو کرنے میں

دل یہ چاہے کہ شبِ ہجر بڑھا لی جائے

Sunday, 10 January 2021

خزاں کے دور میں کر اعتبار لفظوں کا

 خزاں کے دور میں کر اعتبار لفظوں کا

بھرم رکھے گی کسی دن بہار لفظوں کا

زباں کا حسن، قلم  کا کمال بکنے لگا

چمک رہا ہے بہت کاروبار لفظوں کا

مِرے یقین کے اوراق بے نشاں نہ رہیں

کچھ اس طرح سے ذخیرہ اتار لفظوں کا

Wednesday, 6 January 2021

بے خلل بے شور رت کی جب کہانی سوچنا

 بے خلل بے شور رُت کی جب کہانی سوچنا

زندگی پر موت کی بھی مہربانی سوچنا

شب کے آوارہ ہنر میں گنگنانا چاندنی

دھوپ کی صناعیوں میں سائبانی سوچنا

در بہ در صحرا نوردوں کی نظر میں جرم ہے

تشنگی کی آخری منزل پہ پانی سوچنا

Sunday, 3 January 2021

وہ جو آوارہ مسافر ہیں کدھر جاتے ہیں

 وہ جو آوارہ مسافر ہیں کدھر جاتے ہیں

شام کے وقت پرندے بھی تو گھر جاتے ہیں

رات کی چیختی وحشت کا بھرم رکھنے کو

ہم ستاروں کی طرح تا بہ سحر جاتے ہیں

اس قدر ظرف کی تنگی کا ہمیں سامنا ہے

کچھ سمندر ہیں جو دریا میں اتر جاتے ہیں