Sunday, 1 November 2026

ذروں کا پرستار ہوں ذروں پہ جبیں ہے

 ذروں کا پرستار ہوں ذروں پہ جبیں ہے

میرے لیے کعبہ تِرے کوچے کی زمیں ہے

اب دوسرے عالم میں مِرا قلبِ حزیں ہے

میرے لیے دُنیا میں نہ دُنیا ہے نہ دِیں ہے

جس جا کہ میں رہتا ہوں، وہاں کچھ بھی نہیں ہے

تم ہو نہ تو میں ہوں، نہ فلک ہے نہ زمیں ہے

آغازِ محبت تو بڑا قلبِ نشیں ہے

انجامِ محبت کی خبر مجھ کو نہیں ہے

یہ فیضِ محبت ہے، محبت کے تصدّق

میں اور کہیں ہوں، مِرا دل اور کہیں ہے

دل کو نہ یقین آئے تو میں کیا کروں اس کو

مجھ کو تو ستمگر تِرے وعدے کا یقیں ہے

یہ چاک گریباں ہے محبت میں ضروری

جس میں نہ ہو وحشت وہ محبت ہی نہیں ہے

میں مستِ تخیّل ہوں، تخیّل کا تصدّق

دُنیائے تخیّل کا ہر اک ذرہ حسیں ہے

ہر چیز پہ پڑتی ہیں مِری مست نگاہیں

ہر چیز زمانے کی محبت میں حسیں ہے

تُو مرکز صدعیش ہے، میں مرکز صد محن

شاید مِری دُنیا تِری دُنیا سے حسیں ہے

بہزاد کا ایمان ہے، تُو اور ترا جلوہ

یہ مست نگاہی تِری بہزاد کا دِیں ہے


بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment