یار! اپنوں کی خُرافات پہ غم کیا کرنا
دُشمنوں کے بھی سوالات پہ غم کیا کرنا
رات دن اشکوں کی برسات پہ غم کیا کرنا
اپنے بگڑے ہوئے حالات پہ غم کیا کرنا
وقت کیسا بھی ہو دو پل میں گُزر جائے گا
درد میں ڈُوبی ہوئی رات پہ غم کیا کرنا
یار! اپنوں کی خُرافات پہ غم کیا کرنا
دُشمنوں کے بھی سوالات پہ غم کیا کرنا
رات دن اشکوں کی برسات پہ غم کیا کرنا
اپنے بگڑے ہوئے حالات پہ غم کیا کرنا
وقت کیسا بھی ہو دو پل میں گُزر جائے گا
درد میں ڈُوبی ہوئی رات پہ غم کیا کرنا
جس طرف دیکھیے طوفان نظر آنے لگے
شہر کے شہر ہی ویران نظر آنے لگے
جب سے شیشوں نے کیا ان کے حوالے خود کو
تب سے پتھر بھی پریشان نظر آنے لگے
مختصر ہم نے کیا خود کو ذرا سا خود میں
کس قدر راستے آسان نظر آنے لگے
فضا میں جب بھی بکھرتے ہیں رنگ موسم کے
تمہارے عکس سے لگتے ہیں رنگ موسم کے
یہ اور بات کی تم نے کبھی نہیں دیکھا
مِری پلک پہ ٹھہرتے ہیں رنگ موسم کے
تمہاری یاد کے پیکر میں ڈھلنے لگتے ہے
نظر میں جب بھی ابھرتے ہیں رنگ موسم کے
میں نازوں سے رہنے والی خود نازوں سے لڑتی ہوں
انسانوں کے بیچ میں ان کے کرداروں سے لڑتی ہوں
دنیا بھر کی آوازوں سے کیا مطلب مجھ کو میں تو
اپنے اندر اٹھنے والی آوازوں سے لڑتی ہوں
پیاس کا اپنی جشن مناتی خاک اڑاتی ہوں پہلے
تب جا کر پھر شدت سے میں صحراؤں سے لڑتی ہوں
جب بھی میں رقص کناں کوئی ستارہ دیکھوں
اک جنوں اپنی ان آنکھوں میں دوبارہ دیکھوں
جو نہ ممکن ہو وہی خواب دوبارہ دیکھوں
یعنی پھر پانی پہ میں عکس تمہارا دیکھوں
تیری نظروں میں محبت ہے کوئی سودا مگر
میں محبت میں منافع نہ خسارہ دیکھوں
تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا
ہر ایک رنج ہمارا جو بے حساب ہوا
اسے ستم نہیں اس کا تو اور کیا بولوں
سوال اور تھا کچھ، اور ہی جواب ہوا
نکل تو آیا ہے کردار خود کہانی سے
ہر ایک زخم مگر اس کا اک کتاب ہوا
ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
لوگ تو بے شمار بیٹھے ہیں
ہم ستاروں کو دیکھنے کے لیے
اپنی آنکھیں اتار بیٹھے ہیں
آسمانوں پہ کیجئے پرواز
جب تلک خاکسار بیٹھے ہیں