ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
لوگ تو بے شمار بیٹھے ہیں
ہم ستاروں کو دیکھنے کے لیے
اپنی آنکھیں اتار بیٹھے ہیں
آسمانوں پہ کیجئے پرواز
جب تلک خاکسار بیٹھے ہیں
وہ بھی مایوس ہو چکا خود سے
ہم بھی امید ہار بیٹھے ہیں
جس کو کہتے ہیں زندگی جیوتی
رفتہ رفتہ گزار بیٹھے ہیں
جیوتی آزاد
No comments:
Post a Comment