Sunday, 21 March 2021

ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

 ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

لوگ تو بے شمار بیٹھے ہیں

ہم ستاروں کو دیکھنے کے لیے

اپنی آنکھیں اتار بیٹھے ہیں

آسمانوں پہ کیجئے پرواز

جب تلک خاکسار بیٹھے ہیں

وہ بھی مایوس ہو چکا خود سے

ہم بھی امید ہار بیٹھے ہیں

جس کو کہتے ہیں زندگی جیوتی

رفتہ رفتہ گزار بیٹھے ہیں


جیوتی آزاد

No comments:

Post a Comment